تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 377
فصل چهارم جلسہ سالانہ رتبه حضر الملح الموعود ی ایمان افروز و انقلاب بگیر تقاریر اور ان کا پاکستانی پریس تیز کره عین اس وقت جبکہ قادیان کی مقدس سرزمین ہمجوم تعلق کا عاشقانہ اور فدائیانہ نظارہ پیش کر رہی تھی ربوہ میں شیخ احمدیت کے پچاس ہزار پروالے جین تھے۔یہ ایک منفرد اور مثالی اجتماع تھا جس میں پاکستان کے علاوہ جرمنی، امریکہ ، شام ، سوڈان، حبشہ ہیرا ہیں، انڈونیشیا اور برٹش گیا نا ر جنوبی امریکہ) کے بعض مخلص احمدیوں نے بھی شرکت فرمائی اور اپنے مقدس امام کی زبان مبارک سے زندگی بخش کلمات سن کر اپنے ایمانوں کو تازہ اور اپنی روحوں کو زندہ کیا۔حضرت المصلح الموعود نے اس جلسہ سے (جو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا افتتاحی خطاب کے وصال کے بعد پہلا جلسہ سالانہ تھا، حسب دستور تین خطابات فرمائے۔حضور نے اپنے اختتامی خطاب میں جماعت کو اس نکتہ کی طرف بالخصوص تو تہ دلائی کہ جماعتی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ نئی نئی اصلاحات ہوں اور نئی قیود اور اصلاحات کو خوشی سے برداشت کیا جائے۔دوسری اصولی نصیحت یہ فرمائی کہ حفاظت کے لئے ظاہری تدابیر ایک ضروری چیز ہیں لیکن خلافت ہے کو بادشاہت کا رنگ مت دو۔اس دفعہ حفاظتی نقطہ نگاہ سے اسٹیج اور پنڈال میں بیٹھنے والے سامعین جلسہ کے درمیان غیر معمول فاصلہ ڈال دیا گیا تھا جس پر حضور نے اظہار خفگی کیا اور فرمایا : - تو جلسہ گاہ کے متعلق خود یکی نے اس نقش کو دیکھ کہ کہا کہ یہ مجھے پسند نہیں۔یہ احتیاط سے گزر کر