تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 372
۳۳ بہانا ضروری ہے۔دیکھو شیخ نے کہا تھا کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو جمع کرنے کے لئے آیا ہوں اور شیخ صلیب کے شدید طور پر تکلیف دہ واقعہ کے بعد میں طرح بھی ہوا گرتا پڑتا ان گمشدہ بھیڑوں کی طرف گیا۔قادیان میں جو انقلاب ہوا ہے وہ تمہارے لئے بھی ایک صلیب جیسا ہی واقعہ ہے، مگر اس میلیب پر سے صرف ایک شخص بچاتھا اور تم ہزاروں آدمی اس دوسری صلیب سے بچ گئے ہو۔گر تم بھی شیر کی طرح یہ ارادہ کرلو کہ خدا کی گندہ بھیروں کوتم نے مجھے کہتا ہے تو تم ایک عظیم الشان کام کر سکتے ہو لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہندوستان کی جماعتوں نے موقع کی نزاکت کو نہیں سمجھا، اور مجھے افسوس ہے کہ صدر انجمن احمدیہ قادیان نے بھی اب تک اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھا۔وہ صرف ایک گاؤں کی پنچائت کی حیثیت اپنے آپ کو دیتے ہیں اور ایک ملک کا بوجھ اٹھانے والے اور ملک کی آزادی کا بیڑہ اٹھانے والے لیڈروں کی حیثیت اپنے آپ کو نہیں دیتے۔ایک پیاسے کو پانی پلازا ثواب کا موجب ہے لیکن ایک گمراہ کو ہدایت دینا تمہارے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔نہ صدر انجمن احمدیہ قادیان نے نہ تم نے اس بارہ میں کوئی موثر قدم اٹھایا ہے۔سب سے پہلی چیز تو یہ تھی کہ امن کے قیام کے بعد قادیان کے جلسہ میں ہزاروں ہزار احمدی آقا مگر آپ لوگ تو اب بھی اُسی طرح آ رہے ہیں جس طرح کہ خطرہ کے وقت میں آتے تھے ، وہ وقت گذر چکا، ملک میں خدا کے فضل سے امن ہو گیا آپ آپ لوگوں کا کام ہے کہ سال میں کم سے کم ایک دفعہ تو قادیان آئیں اور یہاں آکر ان امور پر غور کریں جو آپ لوگوں کی بہتری کے لئے ضروری ہیں اور جو آپ کی ترقی کا موجب ہو سکتے ہیں۔پس جب آپ لوگ واپس بھائیں تو ہر احمدی کے کان میں یہ بات ڈالیں کہ وہ آئندہ جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان چلنے کی کوشش کریں اور دوران سال میں بھی اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ زور سے قادیان آتے رہیں جیسا کہ تقسیم سے پہلے آتے تھے۔دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو اُردو، انگریزی، ہندی، گو رکھی اور گجراتی پریس قائم کرنے چاہئیں مہندی تو ہندوستان کی حکومتی زبان ہو گئی ہے اور گو رکھی گویا پنجاب کی ایک رنگ میں حکومتی زبان ہے اور اُردو ملک کی غیر سیاسی ملکی زبان ہے۔انگریزی جاننے والے اب تک بھی اس کثرت سے اس ملک میں پائے جاتے ہیں کہ جن علاقوں میں کسی اور زبان سے تبلیغ نہیں کی جا سکتی ان میں انگریزی کام دیتی ہے لیکن اب تک اُردو کا پر لیس بھی بھاری نہیں ہوا کجا یہ کہ اُسے ترقی دے کو بڑھایا جائے