تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 371
منافرت پیدا کرنا ہے حالانکہ میرے نزدیک ہندوستان کے ہر احمدی کو سوائے اس کے کہ اُسے مجبور کر کے نکال دیا جائے ہندوستان میں ہی رہنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ ہماری جماعت کا وہ مرکز جسے بانی سلسلہ احمدیہ نے قائم کیا تھا ہندوستان میں ہی ہے اور یہ کتنی حماقت کی بات ہوگی کہ وہ قوم جو اپنے مبلغ امریکہ اور جرمن اور سپین اور ہالینڈ اور فرانس اور انگلینڈ کو مسلمان بنانے کے لئے بھیجوا رہی ہے وہ ہندوستان کو خالی چھوڑ دے جو کہ کسی زمانہ ہیں۔اسلام کی شان و شوکت کا ایک بڑا بھاری نشان تھا ہم تو اسے خدا تعالیٰ کا فضل سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان اور حکومت ہند کے معاہدات میں دونوں طرف دونوں قوموں کو رہنے کی اجازت ہے اور اس طرح وہ مواد موجود ہے جو کسی وقت دونوں ملکوں میں صلح پیدا کرنے کا موجب ہو جائے گا۔پس آپ لوگ اس قسم کے پراپیگینڈا سے بالکل متاثر نہ ہوں اور آپ کے دل غمگیوں نہ ہوں کیونکہ شریر لوگ ایسی باتیں کیا ہی کرتے ہیں۔آپ اسی طرح اپنے ملک کی وفاداری کریں جس طرح کہ ہم لوگ پاکستان کے وفادار ہیں لیکن اس بات کو یاد رکھیں کہ ہندوستان کا یہ اعلان ہے کہ وہ دنیوی حکومت ہے اور نہ ہی حکومت نہیں ہے اور اس طرح اس نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ کسی کے مذہب میں خل اندازی نہیں کرے گی جس کے معنے یہ ہیں کہ حکومت ہند وستان خدا کے سامنے اپنے آپ کو بری کر چکی ہے۔اسی طرح مہذب دنیا کے سامنے بھی اپنے آپ کو بری کر چکی ہے۔اگر اس کے اس اعلان کے بعد آپ لوگ تبلیغ میں شکستی کریں یا آپ لوگ اشاعت میں مستی کریں تو یقینا خدا کی نگاہ میں اور دنیا کی نگاہ میں مجرم ہوں گے حکومت ہندوستان مجرم نہیں ہوگی۔ہند وستان میں اس وقت مسلمان جس کمزوری کی حالت میں سے گزر رہے ہیں وہ نینا ان کے دلوں میں خون تعد ا پیدا کرنے کا موجب ہو رہی ہے۔اسی طرح ہند و قوم بھی آزادی کے بعد سیاست ہیں اب اتنی رغبت نہیں رکھتی جتنی کہ پہلے رکھتی تھی۔ان میں بھی ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو دین کی جستجو کرنے لگ گیا ہے اور صداقت کی تلاش اس کے دل میں پیدا ہو گئی ہے پیس ان مسلمانوں تک پہنچنا جن کے دل شکر تے ہیں اور خدا کے خون سے معمور ہو چکے ہیں آپ کا فرض ہے۔اسی طرح وہ نیر نام بھی کے دل میں آپ دین کی جستجو پیدا ہو گئی ہے اور جو یہ کجھتے ہیں کہ سیاست کا کام ہم نے پورا کر لیا، ہمارا ملک آزاد ہو گیا، اب ہمیں خدا کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے، ان کی طرف بھی آپ کا