تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 312
۳۰۸ اور معاملہ فہمی کی بہت عمدہ مثال تھی۔ان بیانات میں سے بعض کا مشن ضمیمہ میں شامل ہے اور ترجمہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عبد الرحمن عوام پاشا عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کا بیان نے شدیت یدکی و الاختبار الجدید ہوں میں یہ فتو میں شائع ہوا تھا) کے نمائندہ خصوصی کو حسب ذیل بیان دیا :- (ترجمہ) لیکن حیران ہوں کہ آپ نے قادیانیوں یا چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب وزیر خارجہ پاکستان کے متعلق مفتی کی رائے کو ایک مؤثر مذہبی فتوی خیال کیا ہے۔اگر یہ اصول مان لیا جائے تو پھر بنی نوع انسان کے عقائد، ان کی عزت و وقار اور ان کا سارا مستقبل محض چند علماء کے خیالات و آراء کے رحم و کرم پر آرہے گا۔فتوئی کسی مخصوص اور غیر ہم واقعہ سے متعلق ہونا چاہیئے اور پھر ایسی صورت میں بھی اس کی حقیقت محض ایک رائے سے زیادہ نہیں ہو سکتی اور نہ شخص کے لئے اس کا تسلیم کرنا واجب اور لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔اسلام نے علماء کے ذریعہ کسی کلیسائی نظام کی بنیاد نہیں ڈالی جو لوگوں کوخدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر سکے۔بلاشبہ یہ رائے کی حیثیت محض رائے کی ہے نہ کہ دین کی کیسی کی رائے نہ تو کسی کو دین سے خارج کر سکتی ہے اور نہ داخل۔ہر وہ شخص جو کلمہ لا إله إلا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ کا قائل ہے اور قبلہ کی طرف منہ کرتا ہے وہ یقیناً مسلمان ہے۔یہ امر سلمانوں کے مفاد کے سراسر خلاف ہے کہ کسی ایک فرقہ کو بے دین قرار دیا جائے۔اسلام کی بنیادی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان دوسرے کو کافر قرار دینے سے بچے۔" ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ظفر اللہ خان اپنے قول اور اپنے کردار کی رو سے مسلمان ہیں۔روئے زمین کے تمام حصوں میں اسلام کی مدافعت کرتے ہیں آپ کا میاب رہے اور اسلام کی مدافعت میں جو موقف بھی اختیار کیا گیا اس کی کامیاب حمایت ہمیشہ آپ کا طرہ امتیاز رہا اس لئے آپ کی عزت عوام کے دلوں میں گھر کرگئی اور مسلمانان عالم کے قلوب آپ کے لئے احسان مندی کے جذبات