تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 311 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 311

الهلالى فبادر الهلالى الى وضع المرسوم بد حض الفتوى الجرئية والغائها ، ثم حمله إلى الملك ليوقعه ولكن فاروق رفض توقيع المرسوم ناصر الهلالى وهذه بالاستقالة۔۔۔وهذا الملك السابق كتفيه مستهزأ واستقال الهلالي۔۔له یعنی سابق شاہ فاروق کے متعلق یہ شہور ہے کہ وہ ہر صحت اور راہنمائی کو نا پسند کرتے تھے بالخصوموں سیاسی اور مذہبی معاملات میں جو لوگ ان کو نصیحت کرنے کی جرات کرتے وہ انہیں سخت حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے۔ایک دفعہ جناب پیچوہدری محمد ظفراللہ خان وزیر خارجہ پاکستان مجلس اقوام متحده میں شمولیت کے بعد واپسی پر مصر سے گزرے تو سابق شاہ فاروقی نے جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خماں کا استقبال کیا۔اس موقعہ پر موصون نے جن کا شمار دنیا کی خاص سیاسی اور اسلامی محرز شخصیتوں میں ہوتا ہے شاہ فاروق کو دورانِ، لاقات مذہبی امور پشتمل اہم مشورے دئے، اس پر شاہ فاروق خفا ہو گئے اور اس ملاقات کے بعد علماء ازہر کو بلا کر مجبور کیا کہ وہ چوہدری محمد ظفر اللہ ناں کے ملحد اور خارج اندر دین ہونے کا فتوی دیں۔چنانچہ فتوی صادر کر دیا گیا اور اخبارات میں اس کی اشاعت بھی ہوئی۔اس فتوئی سے پاکستان میں گہرام بچ گیا۔پاکستانی سفیر مقیم قاہرہ نے سرکاری طور پر مصری حکومت کے پاس احتجاج کیا۔اُس وقت اس حکومت کے وزیر اعظم نجیب الہلالی تھے۔وزیر اعظم السلامی نے ایس پیدا کا نہ فتوی کی تردید اور اسے لغو قرار دینے کا محاطہ شاہ فاروق کے سامنے رکھا اور دستخط کے لئے کاغذ پیش کی لیکن شاہ فاروق نے اسلامی کی تجویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس پرور ایلام السلالی نے اصرار کرتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دی۔بایں ہمہ سابق شاہ فاروق نے عواقب سے بے نیاز ہو کر متکبرانہ انداز میں فتوی کی منسوخی پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا چنانچہ وزیر اعظم البلالی پاش استعفی ہو گئے۔زبردست اسی فون کی اشاعت پر مروں ک از متقلق مصری زعماء اور صحافیوں کا زبر دست احتجاج ہوا اور مصری عوام و خواص سر تا پا احتجاج بن گئے چنانچہ اس موقعہ پر بھری زعماء اور پر لیس نے جو بیانات دئے وہ اُن کی فرض شناسی، تدبیر لة الصیاد کاراگست ۶۱۹۵۳ :