تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 285 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 285

۲۸۱ قائل ہیں اور ہم بھی۔اور دونوں فریق حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے مسیح موعود کو آنحضرت کا تابع نبی مانتے ہیں جس کے صاف معتے یہ ہیں کہ خاتم النبیین کے بعد اتنی اور تابع ہیں آسکتا ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں۔اختلاف تو صرف شخصیت میں ہے کہ امت محمدیہ کا سیح موعود کون ہے ؟ آیا حضرت عیسی ابن مریم ہیں جنہیں قرآن مجید نے صرف رَسُولاً إلى بني اسرائیل کے قرار دیا ہے یا امت محمدیہ کا ایک فرد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اُمتی ہے پس جماعتِ احمدیہ پر یہ الزام سراسر خلاف واقع ہے کہ ہم معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبيين نہیں مانتے ہم حضور علیہ السلام کو پورے یقین سے اور حقیقی رنگ میں خاتم النبیین مانتے ہیں میری تقریر کے دوران دو ایک موقعہ پر مکرم سردار عبد الرب صاحب نشتر نے سوال کئے تھے جن کے خاکسار نے جواب دے دیئے مگر جناب خواجہ ناظم الدین صاحب کی خواہش تھی کہ تقریر کا تسلسل قائم رہے اور سوال بعد میں ہوں۔جب یکی آخری حصہ بیان پر پہنچا تو خواجہ صاحب نے فرمایا کہ یہ پوائنٹ تو واضح ہو چکا ہے اب دوسرے صاحب بیان شروع کریں۔اس پر حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمش مرحوم نے مخالفین کی اشتعال انگیزی پر مدلل تقریر فرمائی اور اخبارات کے حوالے پیش فرمائے۔یاد رہے کہ شروع ہی سے مخالف علماء بہ آمدہ میں ہمارے بیانات سُن رہے تھے وہ بعض کتابیں وزراء کرام کو بھیجوانے لگے جس پر مجلس کا رنگ کچھ بدل گیا تیسرے نمبر پر جناب ملک عبد الرحمن صاحب قادم مرحوم نے جب مختلف فرقوں کے علماء کے باہمی فتووں کے انبار پیش فرمائے تو خواجہ صاحب موصوف حیران رہ گئے کہ علماء نے بات کہاں تک پہنچادی ہے ، اسی دوران مکرم فضل الرحمن صاحب بنگالی بول پڑے کہ ہم آپ لوگوں کو اب تک برداشت کرتے رہے ہیں آئندہ یہ صورت نہ ہوگی اسکے جواب میں محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ نے نہایت غیورانہ جواب دیا کہ آپ لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا سخاک سلوک یا رعایت کی ہے اور آپ آئندہ کیا کریں گے گفت گوئیں قدرے تلخی پیدا ہو گئی گفت گو کا یہ حصہ زیادہ تو انگریزی میں ہوا حضرت مولانا عبد الرحیم ماہیے درو نے بھی اس میں مؤثر حصہ لیا اور جماعت کی خدمات پاکستان کا بھی تذکرہ فرمایا نیز بتا یا کنیم آل عمران : ۵۰