تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 284 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 284

۳۸۰ وران نبينا خاتم الانبياء لا نبي بعده الا الذي ينور بنورة ويكون ظهوره ظل ظهور الاستفتاء من مطبوع ١٩٠٧ء) اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نہی کو ہر گز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبو یخ بہشتی ہے اور آپ کی توجیہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدر یہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔حقيقة الوحي منه ما شد مطبوعہ ۱۹۰۷ ء ) ا خدا اس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اس کے رسول حضرت محمد (صطفے صلی اللہ علیہ ولم کو در حقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے۔رشد معرفت ۳۲۵۰ مطبوعه ۲۶۱۹۰۸ ان دسی حوالہ جات کے پڑھنے سے اس مجلس میں عجیب موقعہ پیدا ہو گیا تھا، الحمد للہ یکیں نے کہا کہ جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔خود بانی سلسلہ احمدیہ کے کلمات آپ کے سامنے ہیں۔کتابیں موجود نہیں تو پھر کسی مولوی صاحب کا یہ کہنا کیا وزن رکھتا ہے کہ احمدی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے؟ یں نے واضح کیا کہ آنحضرت کو خاتم النبیین تو احمدی بھی مانتے ہیں اور غیر احمدی بھی۔اس تفسیر میں بھی دونوں فریق متفق ہیں کہ خاتم النبیین کی رو سے نئی شریعت والانہیں نہیں آسکتا۔اس مرحلہ پور خاکسار نے سلف صالحین کے دن اقتباسات عربی واردو میں پیش کئے اور اصل کتابیں میز میں رکھ دیں۔ان اقتباسات کا خلاصہ یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انقطاع صرف تشریعی نبوت کا ہے۔پھر میں نے واضح کیا کہ ہمارے معنوں کی رو سے فیوض محمد یہ جاری ہیں اور آنحضرت کی پیروی سے خیر اقت کے افراد کو وہ تمام انعام مل سکتے ہیں جو پہلی امتوں کو ملے تھے ان معنوں کی رُو سے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت اور برتری نمایاں ہوتی ہے۔پچیس تیس منٹ کے اس بیان کے آخر میں میں نے کہا کہ در حقیقت تو خاتمیت محمدیہ کے بارے میں ہمارے اور دوسرے علماء میں اختلاف کا کوئی سوال نہیں وہ بھی ایک مسیح موعود کے اقمت میں آنے کے