تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 281 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 281

ہے۔مرحوم مله اس مرحلہ پرگفت گو دیگر کار می و سیاسی مسائل کے متعلق جاری ہوگئی اور خاکسار کے علاوہ محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب او رفترم مولانا شمسی مرحوم میں گفتگو فرماتے رہے۔اس گفتگو ہیں مسلمان کی تعریف اور جماعت کے خلاف ہنگامہ آرائی کا جواز بھی زیر بحث آیا۔دوسرے روز ہم کراچی کے لئے روانہ ہو گئے۔یہ جولائی ۱۹۵۲ء کے آخری ایام تھے یا اگست ۱۹۵۲ء کے شروع کے دن تھے ہمارا قیام ایک ہوٹل میں تھا۔امیر و فد جناب مولانا عبد الرحیم صاحب درد نے ہر رکن کے فقہ الگ الگ مضمون مقرر کر دیا اور ہم سب نے باقاعدہ حوالے نوٹ کر لئے۔اصل کتا بیں ساتھ رکھ لیں مقررہ تاریخ پر یسم سب و زیر اهم خواجه ناظم الدین صاحب مرحوم کے بالائی کمرہ میں حاضر ہوئے۔بڑے تیز کے ایک حرارت خواجہ صاحب موصوف کے علاوہ سردار عبدالرب نشتر، میاں مشتاق احمد صاحب گورمانی فضل الرحمن صاحب بنگالی اور خواجہ صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری تشریف فرما تھے اور میز کے دوسری طرف علی الترتیب خاکسار ابو العطاء، محترم مولانا جلال الدین صاحب میں ، ملک عبد الرحمن صاحب خادم مرحوم، محترم شیخ بشیر احمد صاحب اور محترم مولانا عبدالرحیم صاحب در دمرحوم بیٹھے تھے ہمارے امیر وفد نے خواجہ صاحب اور دیگر وزیروں سے ہمارا تعارف کرایا اور یہ بھی فرمایا کہ پہلے ہماری طرف سے ابو العطاء بات کریں گے۔خاکسار نے آغاز گفتگویوں کیا کہ ہم احمدی بھی پاکستان کے آزاد شہری ہیں اور ہمیں بھی ایس ملک میں تمام باشندوں کی طرح مساوی حقوق حاصل ہیں۔آپ اس ملک کے ذمہ دار وزراء ہیں آپ کے پاس ہمارے مخالف علماء نے آکر ہمارے خلاف بہت سی باتیں کہی ہیں ہم اس بارے میں وفات کرنے کے لئے حاضر ہوگئے ہیں امید ہے کہ آپ ہماری باتوں کو بھی تو جہ سے سماعت فرمائیں گے۔یکن نے جناب وزیر اعظم صاحب کو تو یقیہ دلاتے ہوئے عرض کیا کہ علماء کے جو وفود آپ کو ملے ہیں انہوں نے آپ سے کہا ہوگا کہ احمدی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔محترم خواجہ صاحب مرحوم نے اثبات میں جواب دیا میں نے عرض کیا کہ میں صرف اس مقصد کے تعلق وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔یکی نے عرض کیا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانتے ہیں انہوں نے ہمیں فرمایلہ ہے کہ۔