تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 280
جناب مودودی صاحب نے فرمایا کہ آپ لوگ بجا کہ اپنے امام سے کہیں کہ اس وقت جماعت احمدیہ کے خلاف سخت شورش برپا ہے اور شدید خونریزی کا خطرہ ہے۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ آپ خاموشی سے اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت تسلیم کرلیں یا پھر وہ عقائد اختیار کر لیں جو ہمیں گوارا ہوں ورنہ سخت خطرہ ہے۔یکن مودودی صاحب سے پٹھانکوٹ کےدارالاسلام میں اچھی طرح گفت گو کر چکا تھا اور غالیاً اس کیس میں میں ان کے قریب اور سامنے تھا لیکں نے جواباً عرض کیا کہ جناب آپ نے ہمیں کیا پیغام دیا ہے؟ یہ پیغام ہم اپنے امام ایدہ اللہ نمرہ کو کس طرح دے سکتے ہیں ؟ اس پیغام کو توش کہ ہم خود شرمند ہیں کہ آپ ہمیں کیا کہہ رہے ہیں۔اپنی جماعتوں کی مخالفتیں ہوتی آئی ہیں اور نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے اس ملک میں بھی جماعت احمدیہ کی مخالفت ہو رہی ہے یہ وہی مخالفت ہے۔مودودی صاحب نے ناصحانہ انداز میں کہا کہ آپ میری بات مان لیں اور یہ پیغام اپنے امام کو پہنچا دیں اس مرتبہ کی مخالفت عام مخالفت نہیں یہ بہت گہری ہے اور اس کے نتائج بڑے سخت ہیں بخاکسار نے مودودی صاحب سے پھر زور سے کہا کہ پیغام دینے کا تو سوال ہی نہیں ہے ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ مخالفت بھی بعینہ ویسی ہی ہے جیسی جملہ نبیوں کے وقت میں ہوتی رہی ہے۔ایک لاکھ چو میں ہزار مرتبہ تجربہ ہوچکا ہے کہ مخالفتوں کے باوجود الی جماعت ہی اپنے مقصد میں کامیاب ہوتی رہی ہے آج بھی یہی نظارہ دہرایا جائے گا۔پھر میں نے کہا کہ جناب معاملہ دو حال سے خالی نہیں یا تو حضرت باقی اسلسلہ احمدیہ علیہ السلام اپنے دعوائی ماموریت میں بچے ہیں یا معاذ اللہ جھوٹے اور مفتری ہیں۔اگر وہ بیچتے ہیں اور تمہیں کامل یقین ہے کہ وہ پیچھے ہیں تو اس مخالفت سے کچھ احمدیوں کے گھر جلائے جا سکتے ہیں ، ان کی فصلیں اُجاڑی بھا سکتی ہیں، ان کی دکانیں ٹوٹی جا سکتی ہیں، ان میں سے بعض کو شہید بھی کیا جا سکتا ہے مگر یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی جاری کردہ تحریک کو مٹایا جا سکے یا اس کی قائم کر دہ جرات کونا بود کر دیا جائے اور اگر خدانخر استہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مفتری اور جھوٹے تھے جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو پھر آپ کو ان کی جماعت سے کیا ہمدردی ہے ؟ اگر ایسی جماعت نے کل ہلاک ہونا ہے تو اسے آج ہلاک کر دینا اچھا ہے اس لئے آپ کے پیغام دینے کا عملاً بھی کوئی سوال نہیں