تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 272 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 272

۲۶۹ اگر پورے غور و خوض کے بعد آپ ان مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تو آپ بے شک مشورہ دے سکتے ہیں تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود میں ابھی تک کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے مہنگا ہوں یہ امر میرے لئے مجال ہے کہ میں چار دن کے جلسے جلوسوں سے متاثر ہو کر دو ٹوک فیصلہ دے دوں۔کیسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے ہمیں تمام پہلوؤں پر غور کرنا ہو گا اور اس کی وجہ سے جو ایک نہیں لو پیپر گیاں پیدا ہونی لازمی ہیں ان کو بھی حل کرتا ہو گا۔ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں ان میں سے بعض بچیپ ریگیوں کا یہاں ذکر کر دوں۔تقریر جاری رکھتے ہوئے آپ نے فرمایا سوچئے۔اقلیت سے مراد کیا ہوتی ہے ؟ کہیں نا کہ ایک ملک میں کچھ ایسے لوگ لیتے ہیں جو اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ عام قانون کے تحت ان کے حقوق محفوظ نہیں رہ سکتے تو وہ اپنے لئے اکثریت سے علیحدہ تحفظات کا مطالبہ کر تے ہیں۔اقوام عالم کی تاریخ میں آج تک کوئی اس کی دوسری مثال نہیں ہے کہ اقلیت قرار دئے جانے کا مطالبہ اکثریت والے گروہ کی طرف سے تحفظ حقوق کے علاوہ کسی اور شکل میں پیش کیا گیا ہوں۔آپ کو یاد ہو گا کہ متحدہ ہندوستان میں ہندوؤں نے خود کبھی نہیں کہا کہ مسلمانوں کو ہم۔علیحدہ کو دو مطالبہ کیا تو ہم نے کیا کہ ہمیں ہندوؤں سے علیحدہ اقلیت قرار دیا جائے۔ہندو یہی چاہتے تھے کہ وہ ہمیں کسی نہ کسی طرح اپنے ساتھ رکھیں اور ہم علیحدہ تحفظات حاصل نہ کر سکیں۔آج ہم کسی مصلحت کی بناء پر تاریخ عالم اور تمام دستوری روایات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مسلم اکثریت میں سے ایک حصہ کو اقلیت قرار دے دیا جائے۔اس انوکھے آتی دام کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس انتہائی مدلل جواز ہو ایسا جواز جس سے کم ہی قائل نہ ہوں بلکہ باقی دنیا کو بھی قائل کر سکیں۔آج کل کی دُنیا میں پاکستان الگ تھلگ زندہ نہیں رہ سکتا اس کی زندگی دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات پر مبنی ہے ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ کہیں اس اقدام سے ہماری بین الاقوامی ساکھ پر تو اثر نہیں پڑتا۔ہمارے خلاف پہلے ہی یہ جھوٹا پراپیگینڈا کیا جارہا ہے کہ ہم اقلیت کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر سکتے نئی اقلیت میں بنانے سے اس غلط پراپیگنڈے کو مزید تقویت پہنچے گی اور پھر دنیا والے کیا کہیں گے کہ مجیب لوگ ہیں پاکستان بننے سے پہلے کہتے تھے کہ ہمیں اکثریت سے بچاؤ اور اب کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ایک معمولی سی اقلیت سے بچاؤ۔