تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 243 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 243

۲۴۰ اس سے ظاہر ہے کہ مسلمان کوئی کافرانہ عمل بھی کرے تو اس کو فاسق، عاصی، گمراہ تو کہ سکتے ہیں لیکن کافر نہیں کہ سکتے۔جس طرح اگر کسی کافر سے کوئی مومنانہ عمل سرزد ہو جائے تو اس عمل کو تو مومنانہ کہ سکتے ہیں لیکن وہ کا فر محض اس عمل سے مومن وسلم تسلیم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مسلم اور کافر کے درمیان خط فاصل توحید و رسالت کا اقرار ہے۔مر سلمان کہلانے والا مسلمان ہے لمذا ہر شخص جو تو حید و رسالت کا اقراری ہے وہ مسلمان ہے۔باقی رہے اس کے اعمال تو اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔اگر شریعیت ظاہری ان اعمال کو جرم سمجھے گی تو اُسے سزا دے گی اور اگر وہ اعمال شریعت کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ روز قیامت اُسے عذاب دیگا ہمارا کام صرف اتنا ہی ہے NAAT AN INTENANTA اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ کے پر قائل کو سلمان سمجھیں اور مسلمانوں کی تعظیر کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دیں بلکہ اب وقت آگیا ہے کہ اسلامی حکومت تکفیر سلمین کو قانونا جرم قرار دے تاکہ معاشرہ اسلامی اس لعنت سے ہمیشہ کے لئے پاکی ہو جائے لیے ہم مولانا عبد الماجد صاحب دریا باد کی مدیر صدق جدید کو ہمیشہ یہ خصوصیت حاصل رہی ہے کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کی تکفیر کے خلاف پوری قوت سے آواز بلند کی ہے اور ان ایام میں تو آپ نے مسلسل پُر زور شذرات سپر و قلم فرمائے۔مثلاً ایک صاحب نے لائل پور سے مولانا عبد الماجد خان صاحب دریا بادی کو بطور شکوہ لکھا کہ وہ متفقہ مطالبہ تکفیر کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں ؟ آپ نے اس کا جواب حسب ذیل الفاظ ہیں دیا :۔" یہ مطالبہ اگر مکتوب نگار صاحب اپنے دل میں سوچیں تو انہیں خود کچھ عجیب سا نظر آئیں گا که مدیر صدق کے نزدیک تکفیر قادیانیہ کا فتوی غیر د تلی ہو، غیر تشفی بخش ہو پھر بھی اسے بولنے کا بقیه حاشد صفحه گذشته : شتہ :۔سے ہی ہو جاتی ہے اس کے ساتھ اعتقاد کی صحت کا کوئی سوال نہیں ہوتا۔قرآن کریم کی آیت قالت الاعراب الخر میں اسی طرح کے اسلام کی طرف اشارہ ہے۔اور دوسرا اسلام وہ ہوتا ہے جو ایمان سے اوپر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان سے کلہ پڑھنے کے علاوہ دل میں بھی اس کا اعتقاد ہوا ور عملاً بھی وفاداری کا اظہار کرے اور بعد اتعالیٰ کی تمام قضا و قدر کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دے؟ ه اخبار آفاق " لاہور ۴-۵ر دسمبر ۶۱۹۵۲ مث :