تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 202
199 ل مسلم پارٹیز کنونشن منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتیب فکر کے سیاسی اور مذہبی راہنما اور دیگر مندوب کم و بیشیں سات سو کی تعداد میں جمع ہوئے اور احراری مطالبات کے حق میں زور شور سے پراپیگنڈا کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد حکومت پاکستان اور جماعت احمدیہ کے خلاف جارحانہ سرگرمیاں تیز کر دی گئیں اور مسلمان فرقہ احمدیہ یا احمدی مذہب کے مسلمانوں ہے کے خلاف تکفیر کا نیا دور شروع ہوا۔جماعت احمدیہ اپنے قیام کے روزہ اول ہی سے دوری کا فرگری کا تختہ مشق بنی ہوئی تھی بلکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تو را این احمدیہ یہ عظیم الشان تصنیف اور علمی شاہکار کی پاداش میں ۱۸۸۴ء ہی سے فتوی کفر لگ چکا تھا اور اس میں مختلف فرقوں کے علماء حتی کہ حرمین شریفین کے حنفی مسلک کے مفتیان بھی شامل ہو گئے تھے جیسا کہ نومبر ۱۸۸۸ء کے مطبوعہ رسالہ نصرت الابرار سے ثابت ہے کیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بار فرمایا تھا۔عجیب بات یہ ہے کہ جتنے اہل اللہ گزرے ان میں کوئی بھی تکفیر سے نہیں بچا۔کیسے کیسے مقدس اور صاحب برکات تھے۔یہ تو گھر بھی مبارک ہے جو ہمیشہ اولیاء اور خدا تعالیٰ کے مقدس لوگوں کے حصہ میں ہی آتا رہا ہے" کے کنونیشن کی مفصل کا روائی مجلس احرار کے آرگن، آزاد ۱۷ جولائی ۱۹۵۲ء مت میں شائع شدہ ہے ہے سے یہی دونوں نام حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نئے اشتہار واجب الانظار (۴) نومبر ۶۱۹۰۰ ) میں اپنے قلم سے تجویز فرمائے تھے چنانچہ فرمایا وہ نام جو اس سلسلہ کے لئے موزوں ہے جس کو ہم اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمد یہ ہے اور جائز ہے کہ اس کو احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے پکاریں۔یہی نام ہے جس کے لئے ہم ادب سے اپنی معزز گورنمنٹ میں درخواست کرتے ہیں کہ اسی نام سے اپنے کاغذات اور مخاطبات میں اس فرقہ کو موسوم کرے یعنی مسلمان فرقہ احمدیہ اشتہار مشمولہ ترياق القلوب " ) سے یہ رسالہ مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی سابق صد مجلس احرار اسلام کے بزرگوں کی تصنیف ہے جس میں آل انڈیا کانگریس میں شرکت کو مباح اور سرسید کی تحریک علی گڑھ سے وابستگی کو حرام قرار دیا گیا تھا۔یہ رسالہ مطبع صحافی انکی سن گنج لاہور میں چھپا تھا کے الحکم ۱۸ مئی ۶۱۹۰۸