تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 159
۱۵۶ بدنصیبی ہے کہ ایسے لوگوں سے کوئی بھلائی کی توقع کیونکر ہوسکتی ہے جنہوں نے جنم ہی ہندو کا نگر میں کی گود اور سیٹھ ڈالمیا کی دولت کی تجوریوں میں لیا ہوا اور نہوں نے اس بات کی قسم کھا رکھی ہو کہ انہوں نے ہمیشہ ملت کے خلاف ہی محاذ قائم کر کے ملت کی صفوں میں انتشار پیدا کرنا ہی اپنا فریضنہ ملی تصور کر رکھا ہو۔کہیں قادیانیوں کی مخالفت کے بہانے سے تبلیغی کا نفرنس اور کہیں ختم نبوت کانفرنسوں کے نام پر بڑے بڑے اجتماع کہ کئےمسلمانوں میں وزیر خارجہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مخالفت کی جاتی ہے اور کئی حیلے بہانے تلاش کر کے پاکستان کی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔بزرگان حوار اگر تبلیغ اور تحفظ نبوت تک ہی اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھیں اور قادیانیوں کی مذہبی نقطہ نگاہ سے ہی مخالفت کریں تو ہم جیسے حنفی العقیدہ لوگ بھی ان کا ضرور ساتھ دیں لیکن قوم و ملک کی بدنصیبی ہے کہ اس احرار ہی ٹولے نے یہ ڈرامہ صرف اپنے ان احراری زعماء کے ایمار پر (جو پاکستان کے قیام کے بعد بھارت میں اپنے ہند و آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے پچھلے گئے تھے اور بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کو ختم کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں، پاکستان کے مسلمانوں کو حکومت پاکستان کے خلاف اکسانے کے لئے کھیلنا شروع کر رکھا ہے۔حال ہی میں معاصر عزیز " نوائے وقت“ لاہور کی ایک خبر کے مطابق احراری امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ بخاری نے یہ اعلان پیشاور کے ایک عام اجتماع میں کیا ہے کہ "یکس ہوں قائد اعظم اور میرے مرکزی دفتر کے چپڑاسی کا نام بھی قائد اعظم ہے، اور ساتھ ہی حکومت پاکستان کو چیلنج بھی دیا ہے کہ اگر حکومت میں طاقت ہے تو تو ہیں قائد اعظم کے سلسلے میں میرے خلاف مقدمہ چلائے یا قائد اعظم مرحوم کی زندگی میں بھی یہ اعدادی بزرگ مرحوم کو کا فراعظم کے نام سے خطاب کرتے رہے لیکن پاکستان کے بانی کی وفات کے بعد ابھی لوگوں کو اتنی ہمت اور جرات ہو گئی ہے کہ وہ ہر سمبر عام مسلمانوں کے اجتماع میں پیشا در پیسے غیور شہر میں قائد اعظم مرحوم کی توہین کرنے کے بعد حکومت پاکستان کو چیلنج دے رہے ہیں۔آپ دیکھنا تو یہ ہیں کہ حکومت پاکستان میں واقعی کوئی غیرت اور طاقت ہے کہ وہ اپنے سب سے بڑے رہنما کی تو ہین کو مخاموشی اور بے غیرتی سے برداشت کر لیتی ہے یا اس گستاخی کے خلاف کوئی عملی اقدام کرتی ہے تا کہ آئندہ کسی دوسرے شخص کو ایسی گستاخی اور ذلالت کی جرات ہی نہ ہو ور نہ یہ چنگاری جس کی داغ بیل احرارینی بزرگوں نے آج پشاور کیسے شہر میں دیکھی کہیں پاکستان کے