تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 158
100 سے مطالبہ کیا گیا کہ (خلاصہ یہ ہے) چونکہ منظفر اللہ قادیانی ہیں اور قادیانیوں کو پاکستان سے کوئی ڈی پی اور ہمدردی نہیں اس لئے انہیں پاکستان کی وزارت نما ریجہ کے عہدے سے الگ کر دیا جائے اور قادیانیوں کو پاکستان میں ایک مذہبی اقلیت قرار دے دیا بجائے " ہنسی ہنسی میں بعض اوقات طول پکڑ جاتی ہے بات اس مطالبہ پر بحث کرنے اور لکھنے کے لئے تو بہت کچھ ہے مگر مختصر اہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ قومی حکومت کی مخارجہ پالیسی سے نا مطمئن ہو کر حضرات علماء کرام نے جن بنیادوں پر وزیر خارجہ کی می خواستی طلب کی ہے وہ بنیا دیں پاکستان کی سالمیت ، خوشحالی اتہ تھی اور اتحاد کے لئے نشتر اور زہر ہلاہل کا حکم رکھتی ہیں۔اور ہمارے واجب الاحترام علماء نے اس کنونشن میں جو مطالبہ کیا ہے وہ ملک اور ملت کے لئے انتہائی تباہ کن ہے۔ہر قادیانی کو اینٹی پاکستان اور قادیانیت کو پاکستانیت کا تضاد ٹھرانا ایک ایسی پالیسی ہے جس سے کوئی با شعور پاکستانی اتفاق نہیں کر سکتا۔ایسے حالات میں جبکہ ہمیں اپنا قومی وجود قائم رکھنے کے لئے زندگی کے ہر شعبہ میں ایک جنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے فریبی بنیادوں پر اس قسم کے ہنگامے برپا کرنا اور سیاسیات کو مذہبی رنگ دے کر فرقہ پرستی کی آگ میں چھونکنا کہاں کی دانشمندی ہے بلکہ مضحکہ خیز ہے۔ہم ملک کے دانشمند اور باشعور طبقہ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ میدان عمل میں آئیں اور اس قسم کے مضحکہ انگیز مطالبات کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور بلاتا تل و توقف حکومت کے اس مجہول پالیسی اختیار کرنے پر آداب سیاست کا خیال رکھتے ہوئے احتجاج کریں کا ہے ۹۔سہ روزہ " رہبر " (۳۰ میٹی ۱۹۵۲ء) نے لکھا:۔بہاولپور احرار سے قائم ہی ادارے مجلس احرار جیب سے قائم ہوئی ہے تب ہی سے بندرگاہی احرار کے مسلمانوں کے سواد اعظم مسلم لیگ اور مطالبہ پاکستان کی مخالفت کرنا اپنا شیوہ ملی قرار دے رکھا ہے۔قیام پاکستان کے بعد خیال تھا کہ یہ بزرگ اپنے رویہ میں خوشگوار تبدیلی کر کے محنت کا ساتھ دیں گئے لیکن قسمت کی ے ہفت روزه تارا کراچی ۲۶ جون ۲۶۱۹۵۲