تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 4 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 4

میں قادیان پہنچا اور مرکز احمدیت کی برکات و فیوض سے مستفیض ہوا۔مردانہ جلسہ گاہ کی حاضری سوا گیارہ سو کے قریب تھی جس میں سے آدھے غیر مسلم تھے معلمہ سے ہند وستان کے علاوہ انگلستان ، ہالینڈ اور انڈونیشیا کے بعض احمدسی مجاہدین نے بھی خطاب فرمایا جس سے غیر مسلم متاثر ہوئے اور انہوں نے اسلام کا پیغام سنتے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔جلسہ میں پریس کا نمائندہ بھی موجو تھا۔زمانہ جلسہ گاہ کے طور پر حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کا مکان استعمال کیا گیا جہاں آلہ بیر العقوت کے ذریعہ سے مردانہ جلسہ کی پوری کا رروائی سنائی دیتی تھی۔۲۹ رفتم سر دسمبر کو شو خو اتین کا علیحدہ اجلاس بھی منعقد ہوا۔غیرمسلم خواتین کی تعداد میں تھی۔افسر جلہ کے فرائض صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے انجام دئے اور میچ پاک کی مقد می بستی کے ایثار پیشہ ور ولیش انتظامات جلسہ کے لئے وقف رہے اور مہمانوں کو ہرممکن آرام پہنچانے کی خاطر ہر تکلیف بخوشی گوارا فرمائی۔پاکستان کے خوش نصیب زائرین جو فتح کر دسمبر کی درمیانی پاکستانی زائرین کی رانگی شب کو بات کا ہے اور قادیان ہوئے تھے مقامات مقیمہ بوقت پیاز کے کی زیارت اور اس مبارک اجتماع میں شرکت کرتے اور شب و روز عبادتوں اور دعاؤں میں منہمک رہتے کے بعد ۳۱ فتح / دسمبر کی شام کو واپس ہوئے۔روانگی سے قبل زائرین کا مسجد اقصٰی میں فوٹو لیا گیا اور اجتماعی دعا ہوئی۔پانچ بجے مشام مزار مسیح موعود پر مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل نے اجتماعی دعا کرائی۔بعد ازاں سب درویش زائرین کو الوداع کہنے کے لئے بٹالہ والی سٹرک پر تشریف لے گئے اور ٹھیک پونے چھ بجے شام زائرین کی دونوں میں نعرہ ہائے تکبیر ، احمدیت زندہ باد اور حضرت امیر المؤمنین زندہ باد کے درمیان روانہ ہوئیں۔اس موقعہ پر رخصت ہونے والوں اور الوداع کہنے والوں کے جو جذبات تھے الفاظ اگی کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔پاکستانی قافلہ اُسی شب پاکستانی حدود میں داخل ہو گیا ہے مله ولادت یکم جنوری ۶۱۸۷۹- وفات ہم جنوری ۱۹۶۱ء کریم صلح ۱۳۴۰ اہش ہے کے الفضل ۱۶ صلح و الفضل ۷ صلح ۱۳۳۱ امیش کر ۱۹ و ۲ جنوری ۶۱۹۵۲ به