تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 153 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 153

۱۵۰ عقائد کچھ بھی ہوں لیکن وہ پاکستان کے آزاد شہری ہیں یا نہیں ؟ اگر اسلامی جمہوریت کے اصولوں کے تحت ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو فتح مکہ کے بعد مکہ کی آزاد شهرت فراخ دلی سے بخشی جا سکتی ہے تو احمد یہ عقائد کے پیرو تو پھر بھی خدائے واحد کی پرستش کرتے ہیں۔ویسے وہ بھی اگر سر ظفر اللہ کی شرخ ٹوپی کو نعوذباللہ خدا مان لیں تو بھی پاکستان دنیا کے نعت پر کتبہ بن کر نہیں بلکہ ایک آزاد جمہوریت بن کر ابھرا ہے۔کیسی پاکستان کے ٹھیکیدار یا مذہب کے رکھوالے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ان کو محض احمدی ہونے کی بناء پر پاکستان کا غدار قرار دیدے۔پاکستان کے اصل غدار لمبی عبائیں قبائیں پہنے ہوئے وہ دشمن اسلام افراد ہیں تو لاکھوں پاکستانی شہریوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کر کے انہیں پانچویں کالم والوں کی ایک بڑی فوج بنا دینا چاہتے ہیں۔آل مسلم پارٹیز کنونشن نے ایک قرار داد کے ذریعہ مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ممالک اسلامیہ اور کشمیر کے مفادات کے پیش نظر وزیر خارجہ سر ظفراللہ کو کابینہ سے فوری علیحدہ کر دیا جائے کیونکہ وہ پاکستان اور بہندوستان کو دوبارہ اکٹھا بنانے پر عقیدہ رکھتے ہیں۔کیوں نہیں قائد اعظم یا قائد ملت کی زندگی میں یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ تمہارا انتخاب غلط ہے اور وزیر خارجہ کی وفاداری مشکوک ہے ؟ شاید وجہ یہ ہو کہ ان قائدین کے آہنی ہاتھوں کا شکنجہ مضبوط اور ایک مولانا چند ماہ جیل میں رہ کر اور انتہائی گریہ وزاری کے بعد معافی مانگ کر یہ مجھے چکے تھے کہ بین الاقوامی سیاست اور ملائی ذہنیت میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن آنریبل خواجہ ناظم الدین کی اس وزارت میں جہاں عوام کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے، انہیں بدامنی کی تلقین کرنے اور امن کی بحالی پر پولیس کے رویہ پر قرار داد نذقت منظور کرنے والے شر پسندوں کو پاکستانی شمی کے الزام میں گرفتار نہیں کیا جاتا وہاں قائد اعظم کے زمانہ کا زمین و آسمان والا فرق خودبخود ایک سراب میں تبدیل ہو جانا چا ہئے تھا چنانچہ آئی مسلم پارٹیز کنونشن کی ساری قراردادیں اس سراب کے پس منظر ہی یہ پیشیں کی گئیں اور اگر حکومت کو اب بھی ہوش نہ آیا تو ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے اور خود مستفید ہونے کے لئے یہ نام نہاد علماء ایک اتنا بڑا ہنگامہ شروع کرا دیں گے کہ پولیس کے اشک آور گیس کے گولے بھی کوئی مدد نہ کریں گے۔