تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 131
۱۲۸ تحریک کے سیاسی تقاضوں کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے " اے عبداللہ ملک صاحب کے اس نظریہ کی مکمل تائید خود زعمائے احرار کے مستقل عقیدہ و مسلک سے بھی ہوتی ہے چنانچہ مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب فتنہ قادیان کے زیر عنوان تردید فرماتے ہیں :۔لوگ بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ احرار کو کیا ہو گیا کہ مذہب کی کل کل میں پھنس گئے یہاں بھینس کو کون نکلا ہے جو نہ نکلیں گے ؟ مگر یہ کون لوگ ہیں وہی جن کا دل غریبوں کی مصیبتوں سے خون کے آنسو روتا ہے۔وہ مذہب اسلام سے بھی بیزار ہیں اس لئے کہ اس کی ساری تاریخ شہنشاہیت اور بجاگیرداری کی دردناک کہانی ہے۔کسی کو کیا پڑی کہ وہ شہنشاہیت کے خس و خاشاک کے ڈھیر کی چھان بین کر کے اسلام کی سوئی کو ڈھونڈے تا کہ انسانیت کی بچاک دامانی کا رفو کر سکے۔اس کے پالس کارل مارکس کے سائنٹفک سوشلزم کا ہتھیار موجود ہے وہ اس کے ذریعہ سے امراء اور سرمایہ داروں کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے اسے اسلام کی اتنی لمبی تاریخ میں سے چند سال کے اوراق کو ڈھونڈ کہ اپنی زندگی کے پروگرام بنانے کی فرصت کہاں ؟“ ہے احراری لیڈروں نے اسی بناء پر متحدہ ہندوستان میں اعلان کیا تھا :۔اسلام کے باغی پاکستان سے ہم اس ہندو ہندوستان کو پسند کریں گے جہاں نماز روزہ کی اجازت کے ساتھ اسلام کے باقی عدل وانصاف کے پروگرام کے مطابق نظام حکومت ہوگا یعنی ہر شخص کو صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صدیق اکبر اور فاروق اعظم کی زندگی کی پیروی میں محض ضروریات زندگی مہیا کی جائیں گی اور کسی کو کسی دوسرے پر سیاسی یا اقتصادی فوقیت نہ ہوگی یا امراء اور سلاطین کی لوٹ کھسوٹ سے لوگوں کو بچاتا پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مشن ے پنجاب کی سیاسی تحریکیں ۲۰ از عبدالله ملک صاحب ناشر نگارشات پبلیشر طبع اول یکم جنوری ۱۹۷۱ ء مطبع علمی پر تنگ پریس لاہور : سے " تاریخ احرار صد از چوہدری افضل حتی صاحب طبع اول ام ۱۹ ء طبع ثانی ۶۱۹۶۸- ناشر دفتر مکتبہ مجلس احرار اسلام پاکستان کا شانہ معاویہ ۲۳۲ کوٹ تعلق شاه ملتان، دفتر مجلس اورابر اسلام پاکستان مقابل شاہ محمد غوث بیرون دہلی دروازہ لاہور شهر به