تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 124 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 124

پروگرام کے مطابق پہلے دن کے اجلاس میں تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد پہلا اجلاس محترم عومه ری عبدالله خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے افتتاحی چوہدری خطاب فرمایا۔اس کے بعد حسب ذیل موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ا۔قرآن کو نیم کے کامل ہونے کے دلائل مولانا ابو العطاء صاحب فاضل مبلغ بنا و تربيه ڈاکٹر عبد الرحمن صاحب آف ہو گا ۳۔اتحاد بین المسلمين کیا یہ وہی زمانہ ہے جس میں سیچ موجودوم مولانا جلال الدین صاحب شستن بینیخ باید گریه مهدی مسعود کا ظہور مقد رتھا ؟ و انگلستان ۴۔حیات مسیح علیہ السلام کے عقیدہ سے اسلام سید احمد علی شاہ صاحب سیالکوئی ہے اسلام کو کیا نقصان پہنچا ہے ؟ صاحب صدر کی تقریر شروع ہوتے ہی بعض لوگوں نے آوازے کسنے ، نعرے لگانے اور گالیاں دینی شروع کر دیں پولیس نے ان لوگوں کو جو ایک پروگرام کے ماتحت جلسہ گاہ کی مختلف سمتوں ہیں پھیلے ہوئے تھے ایک طرف دھکیلنا شروع کیا تا کہ انہیں جلسہ گاہ کے باہر نکال دے لیکن جب یہ لوگ تشدد پر اتر آئے اور پولیس پر بھی پتھراؤ شروع کر دیا تو پولیس کو مجبور الاٹھی چارج کرنا پڑا۔ہر تقریر کے دوران شرپسند باہر والوں کو اکسا کہ اندر لے آتے اور پھر شور مچانا شروع کر دیتے جس سے ان کی غرض یہ ہوتی کہ تقریریں نہ ہو سکیں اور جلسہ بند ہو جائے لیکن جب اس مقصد میں کامیابی نہ ہوسکی تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ آوازے گئے ، نعرے لگائے بلکہ سخت سے سخت گندی اور فحش گالیاں دیں، تالیاں پیٹیں سیٹیاں بجائیں اور رقص کرنا شروع کر دیا۔یہ وہ وقت تھا جب کہ مولانا ابو العطاء صاحب قرآن کریم کے کامل ہونے کے دلائل بیان کر رہے تھے۔اس ہنگامہ آرائی کے باوجود سامعین علیہ خصوصاً غیر از هیات معززین اور شرفاء جو محض تقریریں سننے کی غرض سے تشریف لائے ہوئے تھے آخر تک نہایت پیپسی اور ذوق و شوق کے ساتھ تقریریں سنتے رہے۔اس کے بعد جونہی صاحب صدر نے اجلاس اول کی کاروائی کے خاتمہ کا اعلان کیا ایک جتھے آگے بڑھا اور آن رتیوں کو جو پولیس نے سٹیج کے گرد لغرض حفاظت باندھی تھیں پھلانگ کر سٹیج پر حملہ کرنا چاہا جس پر پولیس کی ایک بڑی جمعیت نے اندر جانے سے روک دیا۔اس موقعہ پر ان لوگوں نے لے یادر ہے احرار کے مذہبی راہ نماؤں کا فتوای احمدیوں کی نسبت یہ ہے کہ اُن کی واہیات (باقی اگلے صفویہ)