تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 112
1۔4 کیسی تقویٰ کا مقام ہے کہ اپنی ذاتی راحت اور ذاتی خوشی کو کلین قربان کر کے محض خدا کی رضا کو تلاش کیا جا رہا ہے اور شاید منجملہ دوسری باتوں کے یہ ان کی اسی بے نظیر قربانی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مشروط پیش گوئی کو اس کی ظاہری صورت سے بدل کر دوسرے رنگ میں پورا فرما دیا۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی اور یہ میری آنکھوں کے سامنے کا واقعہ ہے، اور آپکے آخری سانس تھے تو حضرت آنان جان نور الله مَرُقَدَهَا وَرَفَعَهَا فِي أَعْلَى عِلین آپ کی چارپائی کے قریب فرش پر آکر بیٹھ گئیں اور خدا سے مخاطب ہو کر عرض کیا کہ :- خدایا ! یہ تو اب ہمیں چھوڑ رہے ہیں مگر تو ہمیں نہ چھوڑ یو یا یہ ایک خاص انداز کا کلام تھا جس سے مراد یہ تھی کہ تو ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور دل اس یقین سے پر تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔اللہ اللہ! خاوند کی وفات پر اور خاوند بھی وہ جو گویا ظاہری لحاظ سے ان کی ساری قسمت کا بانی اور ان کی تمام راحت کا مرکز تھا تو کل ، ایمان اور صبر کا یہ مقام دنیا کی بے مثال چیزوں میں سے ایک نہایت درخشاں نمونہ ہے۔مجھے اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ بے حد پیارا اور مضبوطی کے لحاظ سے گویا فولادی نوعیت کا قول یاد آ رہا ہے جو آپ نے کامل توحید کا مظاہرہ کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کی وفات پر فرمایا کہ: " اَلا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كان يعبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَي لَا يَمُوتُ له یعنی اے مسلمانو بشنو کہ جو شخص محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں مگر جو شخص خدا کا پرستار ہے وہ یقین رکھے کہ بخدا زندہ ہے اس پر کبھی موت نہیں آئے گی یا سکے ل بخاری کتاب الغزوات ( باب وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) سے چار تقریریں ص؟ تا مثنا مولفه قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ناشر شعبئه - نشرو اشاعت نظارت اصلاح وارشاد صدرانجمن احمد به پاکستان (طبع دوم دسمبر ۱۱۹۶۶)