تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 99 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 99

۹۶ صبح سوا آٹھ بجے ریڈیو پاکستان لاہور نے حضرت سیدہ محمد وعبہ کی وفات کی :- ریڈیو پر خبر خبر حسب ذیل الفاظ میں نشر کی :۔یہ ہم افسوس سے اعلان کرتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی توجیہ محترمہ گذشتہ رات ساڑھے گیارہ بجے ربوہ میں انتقال کرگئیں۔آپ جماعت احمدیہ کے موجودہ امام مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی والدہ ہیں۔جنازہ کل صبح ۵ بجے ربوہ میں ہوگا یا اے آپ ایک تھان قادیان دارالامان سے بوقت ہجرت ساتھ لائی ہوئی تھیں اور اکثر فرمایا تکفین کرتی تھیں کہ میں نے اسے اپنے کفن کے لئے رکھا ہوا ہے۔علاوہ ازیں حضرت مہنگی معهود و مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا ایک تریک گرت بھی ملک کا آپ نے محفوظ رکھا ہوا تھا چنانچہ غسل کے بعد پہلے یہ مبارک گرتہ اور پھر کفن پہنایا گیا۔حضرت امام تمام سید نا اصلح الموعود نے ہزاروں احمدیوں کی ربوہ میں مضطر با ارشاد فرمایا کہ جنازہ ۲۲ اپریل کی صبح کو ہو تا کہ دوست زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہو سکیں چنانچہ ۲۲ اپریل کی صبح تک ملک کے چاروں اطراف سے ہزاروں کی تعداد میں احمدی مرد و زن ربوہ میں پہنچ چکے تھے اور پشاور سے لیکر کراچی تک کی جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔۲۱ اپریٹی کی شام کو حضرت سیدہ کی نعش مبارک کی زیارت کا موقع مستورات کو دیا گیا۔قریباً ڈیڑھ ہزار مستورات نے زیارت کا شرف حاصل کیا اور ابھی ایک بڑی تعدا د باقی رہ گئی۔حضرت سیدہ کا جنازہ اندرون بخانہ سے اٹھا کر چھے میکر جنازہ اور تدفین کا دردناک نظر ایک منٹ پر تابوت میں باہر لایا گیا۔اس وقت خاندان مسیح موعود کے زخم رسیدہ جگر گوشے اسے تھامے ہوئے تھے۔تابوت کو ایک چار پائی پر رکھ دیا گیا جس کے دونوں طرف لیے بانس بندھے ہوئے تھے۔اُس وقت تک ملک کے کونے کونے سے ہزاروں احمدی مرد و زن پہنچ چکے تھے جو اپنی مادر شفق کے لئے سوز و گداز سے دعائیں کرنے میں مصروف تھے۔چھ بجکر پانچ منٹ پر جنازہ اٹھایا گیا جبکہ سیدنا حضرت امیر المومنین الصلح الموعود لے روزنامہ الفضل لاہور ۲۱ شہادت ۱۳۳۱ مش صدا ہے