تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 77
رئیس دہلی حافظ عبد الکریم صاحب کو ساتھ لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے لیے حضرت شیخ صاحب لاہور میں ریلوے کلرک تھے پھر عہد خلافت اولی میں سرکاری ملازمت ترک کر کے پشاور آگئے اور فوج میں گوشت کی سپلائی کرنے لگے امر میں ان کا قیام سیٹھ رحمت اینڈ سنز کے احاطہ میں تھائیے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع پشاور میں پہنچی تو آپ پہلے احمدی تھے جنہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی فضل عمران کی بیعت بذریعہ تار کی شروع جون سر میں حضرت حافظ روشن علی صاحب غیر مبالدین سے مباحثہ کے لئے پشاور تشریف لے گئے تو آپ ہی کے ہاں مقیم ہوئے ہیں پشاور میں کچھ عرصہ رہائش کے بعد آپ گوجرانوالہ آگئے بٹر سے مجلس مشاورت میں گوجرانوالہ کی طرف سے نمائندگی کے فرائض انجام دینے لگے۔قیام گو جرانوالہ کے دوران آپ نے سیکرٹری تبلیغ کی حیثیت سے تعد تبلیغی پمفلٹ لکھے ہیے آپ عاشق قرآن تھے اور اکثر پر نم آنکھوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے وہ دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوہوں شر آن کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے ارہا فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ قرآن کریم کا طواف کروں۔آپ سلسلہ کے سارے اخبارات منگوایا کرتے تھے۔کتا بیں بھی خاصی تعداد میں جمع کر رکھی تھیں بعض اوقات کتابوں کے کئی کئی نسخے خریدتے اور زیر تبلیغ افرادمیں تقسیم کر دیتے تھے۔شو نے حضرت شیخ صاحب پانچ ہزار می مجاہدین تحریک جدید میں شامل تھے۔سے یہ مباحثہ سے لاہور تاریخ احمدیت مش ۲۸ ) موقفہ مولانا شیخ عبد القادر صاحب) به سے تاریخ احمدیہ (سر بعد) منا ، مثلا مولفه حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمد یہ سرمد جون شاہ کو حضرت مولوی غلام حسن صاحب کے مکان پر ہوا تھا جہ سے لاہور تاریخ احمدیت ف ۲۸۴ مولفہ مولانا شیخ عبدالقادر صاحب فاضل نومسلم ) : نه ايضا : اے اولاد : (۱) شیخ : نذیر احمد صاحب مرحوم (۲) شیخ بشیر احمد مرحوم سینئر ایڈوکیٹ و سابق بھی ہائی کورٹ مغربی پاکستان (۳) شیخ محمد اسلم صاحب مرحوم (۴) شیخ محمد اسحق صاحب (۵) باجرہ بیگم مرحومه (۶) سلیم بیگم مرحومه (۷) آمنه بیگم صاحبہ (۸) محمودہ بیگم صاحبہ ؟