تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 51
کی سی زندگی بسر کر رہے تھے اور اپنے حلقے سے باہر پولیس کی حفاظت کے بغیر قدم نہیں رکھ سکتے تھے۔نہ صرف قادیانی کے محلوں میں بلا روک ٹوک جانے لگے بلکہ قادیان کے مضافات اور بعد ازاں بٹالہ میں بھی دو ایک دفعہ صرف مقامی پولیس کو اطلاع دے کر پہنچ گئے بہندو سکھ اصحاب کے نزدیک مسلمانوں کا ان کے در میان بلا خوف و خطر چلنا پھرنا ایک اچنبھے کی بات تھی اور وہ ایک ہجوم کی شکل میں اکٹھے ہو جاتے تھے ماه شهادت / اپریل کے پہلے ہفتہ میں کئی درویشوں نے نظام سلسلہ سے درخواست کی کہ انہیں کی ۱۹۴۹ کاروبار کی غرض سے بیرونی دبیات اور بٹالہ اور گورداسپور وغیرہ میں جانے کی اجازت دی جائے مگر حضرت مصلح موعود نے ارشاد فرمایا کہ میرے نزدیک اس سے بچنا چاہیے۔اس ہدایت کی روشنی میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مزید یہ نصیحت فرمائی کہ میری رائے میں قدم تدریجی اُٹھانا چاہیئے چنانچہ درویشان قادیان نے نہایت حزم و احتیاط سے آمد و رفت کا سلسلہ شروع کیا اور انہیں یہ دیکھ کر انتہائی مسرت ہوئی کہ غیرمسلم پاک کے جذبات نفرت میں کافی کمی واقع ہوگئی ہے اور کم از کم بالہ اور گورداسپور میں ان کے جانے پر کسی قسم کاکوئی مظاہرہ نہیں ہوا البتہ حیرت و استعجاب کا اظہار ضرور کیا گیا جو ایک طبیعی امر تھا۔اس صورت حال نے درویشوں کے حوصلے بہت بند کر دئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ایک مطبوعہ نوٹ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خوشگوار تبدیل جس سے درویشوں کا دور محصوریت اللہ عزوجل کی عنایت اور فضل و کرم کی بدولت دورہ رابطہ میں بدل گیا، ماہ شہادت و ہجرت ماہ کے دوران ہوئی چنانچہ آپ نے افضل - ارماہ ہجرت منہ میں لکھا: آہستہ آہستہ نقل و حرکت کی سہولت پیدا ہو رہی ہے چنانچہ ہمارے بعض دوست بعض ضروری کاموں کے تعلق میں متعدد دفعہ بٹالہ جاچکے ہیں اور ایک واقعہ گورو اسپور بھی ہو آئے ہیں اور واپسی پر عاستہ میں دھار یوال بھی ٹھرے تھے ایسے موقعوں پر وہ ہمیشہ احتیاطا چار چار پانچ پانچ کی پارٹی میں بھاتے ہیں اور جلد واپس آجاتے ہیں ؟" امیر المومنین سید نا حضرت مصلح موعود نے گذشتہ سالانہ جلسہ قادیان (ه) کے موقع پر بو روح پرور پیغام دیا اس میں خاص طور پر یہ ہدایت فرمائی تھی کہ قادیان میں احمدیوں کے آنے اور سلامی پیغام کا متن تاریخ احمدیت جلد ۱۳ نفر ۸۵ تا ۹۴ میں درج ہے؟