تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 434
تیرک سیاستدان اور ماہر نفسیات شاید ہی اس صدی میں کوئی ہوا جلو اس پر پاکستان ٹائمز کے مسٹر نور شہید نے کہا کہ حضرت صاحب نے مسلمانوں کے مصائب کا علاج خرب بتایا کہ سب ان کے ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔یہ سنتے ہی میاں شیع جھوٹ بولی اٹھے۔نہ میں بھی کہتا ہوں کہ سارے مسلمان ان ہی کے ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں یا اس پر سردار فضلی نے کہا }; پیار صاحب ایمان سلامت لے کر جاؤ گے یا نہیں ؟ " بو ہ بولے " مذاق نہیں کر رہا ہوں بلکہ سچ کہہ رہا ہوں کہ اگر سارے مسلمان ان کے ماخذ پر جمع ہو یا ہیں تو یہ ساری قوم کو کر دیں گے اور آرام کرو اور سارا پراچہ خود اٹھا لیں گے اور پھر ان کی سلامیقوں سے فائدہ اُٹھا نے کا موقع بھی نکل آئے گا۔" ایک اور موقع پر میاں شفیع نے کہا :- ہ تم نے یہ نہیں دیکھا کہ حضرت صاحب کیسے کیسے دنیوی مائل عام فہم طریق پر پیش کرتے ہیں اور پھر اس قدر مدل کہ انکار کی گنجائش نہیں۔۔پھر میاں شفیع نے یہ بھی کہا : J مجھے تو طلبہ میں جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ مناظت کا انتظام تمھا۔کاش راولپنڈی کے جلسہ میں ایسا ہی انتظام ہوتا تو میرا ایڈر خان لیاقت علی کبھی قتل نہ ہوتا۔لوگ تو شاید خالت کے ایسے کڑے سے انتظامات پراعتراض کر لیا لیکن میرے نز دیک یہ چیز قابل ستائش ہے میں اس تاثر کا ذکر ڈائری میں ضرور کروائے گا۔رپور میں گھومتے وقت ایک اور تاثر جس کا اظہار کیا یہ تھا کہ دیکھو ان لوگوں نے وہ کام کر دکھایا ہے جو دوسرے مہاجر تو کیا خود ہماری حکومت نہیں کر سکی۔ربوہ