تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 432 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 432

کو پر وہ انار نے کی ضرورت نہیں لیکن جنگ کے دنوں میں ہسپتال میں کام کرنے کے دوران میں پرونے مکمل طور پر اتارنا پڑے گا کیونکہ وہاں پر یہ قصہ اور وہ کر زخمی سپاہیوں کی مرسم ہی کی اجازت تو نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔سے ہم آپ سے پوچھنا چاہتی ہیںکہ ہمارا اس طرح پر دہ آنا نا اسلام کے خلاف نہیں ہے " اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے مسلم مبارک سے حسب ذیل حجاب در قم فرمایا : " آپ کا خط ملا۔قرآن کریم میں جو پردہ کی آیت ہے اُس سے صاف ظاہر ہے کہ پردہ حالات کے مطابق بدل سکتا ہے۔میں جہاں تک مریم مٹی اور خدمت کا سوال ہے۔ناقل ) یہ جاننہ ہے اور اس سے دریغ کرنا درست نہیں۔مگر جہاں تک پردہ کا لحاظ رکھا جا سکتا ہے وہ کیوں نہ کیا جائے ؟ کیا ہمارا فرض میں ہونا چا ہئے کہ مرحکم شریعیت کا نوریں اسی نوں نے اٹھارہ سو سال سے اسلامی ضروری پر دہ پر عمل کیا ہے۔سر اور گردن ڈھانکتی ہیں۔لاتوں کا لباس مناسب رکھتی ہیں۔چھپائی فور ی طرح ڈھانکنی ہے لنقل مطابق صل ) کیوں پاکستان ہیں یہ احتیاط نہ ہو اور خدمت قوم کے بہانہ سے لڑکیاں ڈاکٹروں سے کھیلنی ہنستی پھریں۔اگر وہ اس سے بچیں اور حکومت اس میں ان کی مدد کرے جو اب نہیں کر رہی تو ہر مسلمان عورت کو خدمت قوم کے لئے نکل کھڑا ہونا چاہیئے۔۴۔لائل پور کے کسی صاحب نے لکھا : " میں نے اپنی خالہ کی لڑکی کے ساتھ دودھ پیا تھا کیونکہ میری والدہ فوت ہوگئی تھی۔میری خالہ کی تین لڑکیاں ہیں کیا ان میں سے کسی کی شادی میرے ساتھ ہو سکتی ہے دیوبندی مولوق سے دریافت کیا گیا تھا اس نے کتاب کنز الرقائق کی رو سے جائزہ قرار دیا ہے سید نا حضرت مصلح موعود نے اس سوال کا مندرجہ ذیل جواب لکھوایا :- آپ کی خالہ زاد بہنیں تمام کی تمام آپ کی حقیقی بہنیں ہی ہوں گی۔آپ کا اُن میں سے کسی کے ساتھ نکار جائزہ نہیں۔یہ ان مولوی صاحب نے غلط کہا ہے ذرا ان سے کہئے کہ وہ ہمیں اس کتاب کا نام اور حوالہ لکھیں۔ہاں اُن لڑکیوں کا رشتہ آپ کے بھائیوں سے ہو سکتا ہے۔اگر آپ سے نہیں کیونکہ لڑکیوں نے اس صورت میں آپ کی والدہ کا دودھ بھی پیا ہو گا۔اس لئے یہ بالکل غلط ہے ، پور مددی سردار خان صاحب نے مری روڈ راولپنڈی سے ۱۸ اگست ۱۹۵۱ ء کو بذریہ مکتوب دو سوال عرض کئے :۔