تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 418
جذبات صحیحہ اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کرتے کہ کسی کو مکہ مار کر اس سے یہ کہا جائے کہ تو مجھے پیار کرنیکین محبت اور پیار کے ساتھ اسے اپنا غلام بنا لو تو پھر تم اسے کہو بھی کہ خدمت نہ کرو تو وہ کہے گا مجھے تو اب لینے دیں اپنی خدمت سے محروم کیوں کرتے ہیں ا سا ہے حضرت امیر المومنين الصلح الموعودية کی تیسری تقریر سیر روحانی عالم روحانی کا دربار خاص کے شہرہ آفاق سلسلہ سے تعلق رکھتی تھی جس میں حضور نے خدا تعالیٰ کے دربار خاص کا قرآن مجید سے روح پرور نقشہ کھینچا اور پھر اس دربار کے روحانی گورنر جنرل محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے لیے مثالی مقام پر ایسے اچھوتے رنگ میں روشنی ڈالی کہ حاضرین پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔حضرت مصلح موعود کی اس مبارک اور یاد گار تقریر کے اختتامی الفاظ یہ تھے کہ :۔اللہ تعالیٰ نے اس مقام محمود کی تجلیات کو اور زیادہ روشن اور نمایاں کرنے کے لئے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اور آپ کے بعد مجھے پیدا کیا اور ہم سے ائی تھے آپ کے حسن کی وہ تعریف کروائی کہ آج اپنے تو الگ رہے بیگانے بھی آپ کی تعریف کر رہے ہیں اور یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجتے ہیں مگر یہ تغیر کیوں ہوا اسی لئے کہ اس روحانی دربارِ خاص کا بادشاہ جس انعام کا اعلان کرتا ہے وہ انعام چلتا چلا جاتا ہے اور کوئی انسان اس کو چھینے کی طاقت نہیں رکھتا۔جب اس نے اپنے دربارمیں یہ اعلان کیا کہ اسے ہمارے گورنر جنرل ہم تجھے ایسے مقام پر پہنچانے والے ہیں کہ دنیا تیری تعریف کرنے پر مجبور ہو گی تو کون شخص تھا جو خدا تعالیٰ کے اس پروگرام میں حائل ہو سکتا، اس نے محمدی انوار کی تجلیات کو روشن کرنا شروع کیا اور اس کے جس کو اتنا بڑھایا کہ دنیا کی تمام خوبصورتیاں اس جیلی چہرہ کے سامنے ماند پڑ گئیں اور دوست اور دشمن سب کے سب یک زبان ہو کر پکار اٹھے کہ حرم حقیقتا محمد اور قابل تعریف ہے، صلی اللہ علیہ وسلم۔له الفضل ۲۱ - امان ۱۳۴۱ش/ مارچ ۱۹۶۲ء من قاص