تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 411 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 411

تھے وہ بھی ختم ہو گیا۔اب دنیا میں صرف ہماری ہی جماعت ہے جو اس مسئلہ کو پیش کرتی ہے کہ اسلام روحانی طور پر ساری دنیا پر غالب آئے گا مسلمان اس بات کو رد کرتا ہے اور وہ کہتا ہے ہمیں اس روحانی غلبہ کی ضرورت نہیں ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی طور پر ایران آزاد ہو جائے۔شام آزاد ہو جائے فلسطین آزاد ہو جائے لبنانی آٹا ر ہو جائے۔سعودی عریب آزاد ہو جائے۔مصر سے انگریزی فوجیں نکل جائیں۔پاکستان کی حکومت مضبوط ہو جائے، سوڈان کو آزادی حاصل ہو جائے۔اگر یہ ممالک سیاسی رنگ میں مکمل آزاد می حاصل کرلیں تو مسلمان سمجھتے ہیں کہ وہ کامیاب ہو گئے مگر یکں پوچھتا ہوں اگر یہ ساری باتیں ہم کو حاصل ہو جائیں۔اگر پاکستانی ایک کے مضبوط اسلامی ملک بن جائے اور تھوڑی بہت اس کی طاقت میں جو کمی ہے وہ دُور ہو جائے ، اگر ایران کے تیل کے چشموں کا سوال حل ہو جائے اور پھر اس کی مالی حیثیت بھی اتنی مضبوط ہو جائے کہ اس کا خزانہ ہر قسم کا مالی بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے۔اگر سعودی عرب بھی آزاد ہو جائے اور اس کے تیل کے چشمے اُسی کے قبضہ میں آجائیں اور وہ موجودہ آمد سے دس نہیں گنا آمد اسے دینے لگیں۔اگر مصر میں سے بھی انگریزی فوجیں نکل جائیں۔اگر شام کے جھگڑے بھی ختم ہو جائیں اور آئے دن جود وہاں قتل کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں اور کبھی کوئی کمانڈر انچیف مارا جاتا ہے اور کبھی کوئی وزیر یہ سب باتیں ختم ہو جائیں۔اگر پاکستان میں اندرونی طور پر جو جھگڑے پائے جاتے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں اور دشمنوں کی سازشیں اور ریشہ دوانیاں جاتی رہیں تب بھی تم غور کر کے دیکھ لو کہ اس موجودہ دنیا کے نقشہ پر روس اور امریکہ اور انگلینڈ اور فرانس کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ان ممالک کی آزادی اور ان کی طاقت ہمارے لئے کوئی بھی فخر کی چیز ہوگی۔یہ ساری حکومتیں آزاد بھی ہو جائیں تو دنیا کی پالیٹکس میں ان کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔روس اور امریکہ اور انگلینڈ اور فرانس کے مقابلہ میں ان کا کیا درجہ تسلیم کیا جاسکتا ہے۔اگر ایک بادشاہ کے گھر کے پاس کسی غریب آدمی کا مکالنی ہو اور فرض کرو کہ اس کے پاس کسی وقت لاکھ دو لاکھ روپیہ بھی آجائے تب بھی بادشاہ کے مقابلہ میں اس کی کیا حیثیت تسلیم کی جا سکتی ہے۔جس دن اس کا روپیہ ختم ہو جائے گا اسی دن اس کی ساری حیثیت جاتی رہے گی اور وہ پھر دنیا میں ایک بے حقیقت پچیز بن کر رہ جائے گا۔پس سوال ہے ہے کہ اگر وہ سب کچھ ہو جائے جو مسلمان چاہتے ہیں تب بھی دنیا میں مسلمان کی کیا حیثیت ہو گی کیا اس کا پھیلاؤ کیا اس کا روپیہ۔کیا اس کی فوج کیا اس کی تعداد اور کیا اس کی طاقت اس قابل سمجھی جا سکتی ہے کہ دنیا کی پالیٹکس پر کوئی غیر معمولی اثر پیدا کر سکے اگر نہیں کو بتانہ اس مسلح نظر سے اسلام کو کیا فائدہ ! i