تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 385
کے مضامین اور بعض مصنفین کی تحریریں بھی پیشیں کی گئیں جن میں مسٹر لیاقت علی خان کے خلاف نہایت سوقیانہ انداز میں رائے زنی کی گئی تھی۔اس کے بعد کمیشن نے اُن لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیا جن کا تصور اسلام اس کے نزدیک نہایت بھونڈا اور خام ہے اور ان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جماعت اسلامی اور اس کے بعض حاشیہ بہ داروں پای رپورٹ کے حق میں پاکستانی پریس کی آواز سے وہ پاکستان اور اورانگریزی پریس نے کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے اس زاویہ نگاہ کی متفقہ طور یہ تائید کی اور عوام اور حکومت کو فرقہ پرستی اور ملائیت کے اس خوفناک اور سنگین خطرہ سے خبردار کیا جو ملک میں ہر لمحہ اور ہر طرف سیلاب رواں کی طرح بڑھتا چلا آرہا تھا۔مثلاً اخبار آفاق نے لکھا :- محبت وطوی پاکستانی ہم سے اتفاق کریں گے کہ کمیشن نے آزادی صحافت اور اسلام کا نام لے کر عمائدین ملک کے خلاف گندگی اچھالنے والے اخبارات کے اصل عزائم کو بے نقاب کر کے ایک بہت بڑی خدمت انجام دی۔۔۔۔اسلام و سالحیت کے یہ اجارہ دار اور بزعم خویش ملک و قوم کے یہ مخلص خادم اپنے سیاسی مخالفین کو فاسق و فاجر اور بد دیانت کہتے رہے۔۔ہمیں یہ کہتے ہیں مطلق قائل نہیں کہ در اصل یہی لوگ قائد ملت کے قاتل تھے کیونکہ اپنی لوگوں کی تحریروں نے وہ ماحول پیدا کیا جس کی پیداوار کمیشن کے الفاظ میں سید اکبر بھی تھا " اخبار انسان (لاہور) نے یہ نوٹ سپر د اشاعت کیا کہ :- ہمیں کمیشن کی اس رائے سے پورا پورا اتفاق ہے حقیقت یہ ہے کہ لبعض طالع آزما جماعتیں جو اسلام کے نام کو استعمال کرتی ہیں، اقتدار کے بھو کے بیٹے ہوئے سیاسی مہرے لیاقت مرحوم کے خلاف تقریر وں میں زہر اگل رہے تھے ---- اخبارات محاصر نوائے وقت بالخصوص اور اس کے انداز میں سوچنے والے ایک دو اور جرائد لیاقت مرحوم اور ان کی قابل احترام رفیقہ حیات کی بابت جھوٹے واقعات اشتراع کر کے طرح طرح سے انہیں بدنام کرتے اور اہم کا تمسخر اڑاتے رہے۔نتیجہ ظاہر تھا نفرت و حقارت کا یہ زہر پھیلا اور اس نے سید اکبر کو جنم دیا۔اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے کمیشن کی رپورٹ پر حسب ذیل شذرہ لکھا یہ