تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 384
قائم کرنا چاہتے تو وہ رعایا کو کھاتے کہ شرعی تعزیر آن کے اختیار میں نہیں شرعی تعزیر حکومت کے اختیار میں ہے بلکہ حکومت بھی شریعی تعزیر قضاء کے ذریعہ دے سکتی ہے۔اگر واقعہ میں یہ تعلیم دی جائے تو خاد لیاقت علی خان تو پاکستان کے پریمیئر تھے پاکستان کا ایک غریب سے غریب لڑ کا بھی نہیں مارا جا سکتا۔جب ہر شخص کے ذہن میں یہ بات بٹھادی جائے کہ ایسا فعل خدا تعالی کے منشاء، اس کے رسول کی تعلیم، قرآن کریم ، اخلاق ، حب الوطنی ، روح نظام اور ملک و ملت کے خلاف ہے تو کوئی شخص ایسا فعل کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔اگر خان لیاقت علی خان جنگل میں بھی ہوتے اور سوائے اُن کے اور قاتل کے وہاں کوئی نہ ہوتا لیکن قاتل کے ذہن میں اسلام کی صحیح تعلیم ہوتی تو کبھی نہ مارے جاتے۔ایسی صورت میں پولیس وغیرہ کی کوئی ضرورت نہ تھی۔پس اصل چیز یہ ہے کہ اسلام کی صحیح تعلیم کو قائم کر وہ یہ ملاں جو ہار کو کی تعلیم کو پھیلا رہے ہیں خان لیاقت علی خان کے قتل کے اصل ذمہ دار ہیں جب تک حکومت انکے منہ بند نہیں کرے گی ملک میں امن قائم نہیں ہو سکتا یا لے حکومت پاکستان نے اس حادثہ قتل کی تحقیقات کی حادث قتل کے تحقیقاتی کمشن کی رپورٹ کے ایک ایک کی امریکی یکی نے اگر پسند طور ے لئے پر یہ رائے ظاہر کی کہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ وزیر اعظم مرحوم کا قتل سید اکبر کا محض انفرادی فعل تھا یا کسی سازش کا نتیجہ تاہم کمیشن نے قاتل کے اس شرمناک فعل کے امکانی محرکات کا جائزہ لیتے ہوئے اس محرکہ کا بھی ذکر کیا کہ اس جرم کی تہ میں اس کے انتہاء پسندانہ مذہبی نظریات کارفرما تھے اور یہ وہی مکانی پہلو تھا جس پر حضرت مصلح موعود نے اپنے خطبہ جمعہ ملی مفصل روشنی ڈالی تھی اور جس سے حضور کے نظریہ کی لفظ لفظاً تائید ہوتی تھی۔چنانچہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس مذہبی محرک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جھ رائے قائم کی اس کا خلاصہ جماعت اسلامی کے آرگون کوثر ( رستمبر ۱۹۵۷ء) کے الفاظ میں یہ تھا :- اگر و به قتل یہ ہو کہ سید اکبر نے مسٹر لیاقت علی خاں کو اس لئے موت کے گھاٹ اُتار دیا کہ وہ اسکے معیار اسلام پر پورے نہیں اتر تے تھے تو یہ ایک خوفناک صورت حال کا پتہ دیتا ہے، اور کمیشن حکومت کو توجہ دلائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر اس قسم کے رجحانات ملک میں پنپ رہے ہوئی تو ان کو سختی سے دیا دینا چاہیے۔اس سلسلے میں کمیشن کی طرف سے اس امر کا بھی ذکر کیا گیا تھا کہ اس کے سامنے بعض اخباروں له الفضل در نبوت ۱۳۳۰ ش مرتاد