تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 309 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 309

٣٠٣ پر اپنے جسے عام اصطلاح میں تعلق باللہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے کیسی جنتر منتر کی ضرورت نہیں بلکہ ان فطرقی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر انسان میں پائی بھاتی ہیں جیس طرح لوگ اپنے ماں باپ ، بیٹے بیٹی اور بھائی بہنوں سے تعلق پیدا کر لیتے ہیں۔جس طرح لوگ کسی کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں وہی فطری طریق خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے ہیں۔ماں باپ سے ہر ایک انسان محبت کرتا ہے اس لئے کہ اُن کی طرف آپ ہی آپ توجہ ہو جاتی ہے اور وہ خود بھی اسے یاد دلاتے رہتے ہیں کہ ہم تمہارے خیر خواہ ہیں لیکن اُستادوں سے لوگوں کو بہت کم محبت ہوتی ہے اس لئے کہ وہ عام طور پر اپنے احسانات کو دہراتے نہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات ماں باپ اور استاد سے بھی زیادہ مخفی ہے اس لئے وہاں تو سبہ کی زیادہ ضرورت ہے۔اس کی محبت پیدا کرنے اور اس کے قرب کو حاصل کرنے کے لئے چیزیں وہی ہیں، گروہی ہیں لیکن ضرورت صرف توجہ کی ہے۔بعض موٹی موٹی چیزیں ہیں جن پر لوگ عمل نہیں کرتے اس لئے وہ قرب الہی سے محروم رہتے ہیں مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب کھانا کھاؤ تو پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔اب کھانا شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کہنے کے یہی معنے ہیں کہ یہ کھانا مجھے خدا تعالیٰ نے دیا ہے لیم اللہ کے لفظی معنے تو یہ ہیں کہ یک خدا تعالیٰ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں لیکن اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ کھانا خدا تعالیٰ کا ہے میرا کوئی حق نہ تھا کہ اسے کھاؤں مگر خدا تعالیٰ نے مجھے ایسا کرنے کی اجازت دی ہے اور اس نے کہا ہے تم کھا لو اس لئے میں کھا رہا ہوں۔نہ گندم میری پیدا کی ہوئی ہے، نہ پانی میرا بنایا ہوا ہے، نہ نمک میرا بنایا ہوا ہے، نہ مرچ میری پیدا کی ہوئی ہے، نہ گوشت میرا پیدا کیا ہے، نہ ترکاریاں یکس نے پیدا کی ہیں ، یہ سب چیزیں میرے باپ دادا کی پیدائش سے بھی پہلے کی ہیں۔بڑے سے بڑے خاندان کا ذکر بھی سو پشتوں سے آگے نہیں جاتا لیکن گندم ، پانی ، ترکاری ، گوشت ، نمک، مرچ اور لونگ وغیرہ ہزار پشتوں سے بھی پہلے سے موجود ہیں اور جب یہ سب اشیاء میری پیدائش بلکہ میرے باپ دادا کی پیدائش سے بھی پہلے کی ہیں تو یہ میری نہیں ہو سکتیں بسم اللہ کے معنے ہی یہ ہیں کہ سب چیز ہیں خدا تعالی کی ہیں لیکن اُس نے ہمیں اجازت دی ہے کہ تم اسے کھا لو اور ہم کھا رہے ہیں۔پھر یہ بات بھی اسلام نے سکھائی ہے کہ جب تم کھانا کھا چکو تو الحمد للہ کہا کرو اور دوسری دفعہ خدا تعالی کو یاد کر لی کر دی گویا الحمدللہ کہنا خدا تعالیٰ کے احسان کا دوسری بار شکریہ ادا کرنا ہے۔اگر کوئی انسان اس پر مداومت اختیار کر سے تو آپ ہی آپ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جائے گی "