تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 308
۳۲ حضرت امیر المومنين الصلح الموعود چونکه حسن و احسان میں حضرت مہدی مسعود علیہ السلام کے مشیل و نظیر تھے اس لئے آپ کو اپنے بابرکت دور خلافت کے آغاز ہی سے سب سے بڑافت کر یہی دامن گیر رہا کہ جماعت احمدیہ کا ہر فرد کسی طرح خدا تعالیٰ سے مخلصانہ تعلق پیدا کرنے اور اُن کا مولیٰ اُن سے راضی ہو جائے۔چنانچہ حضور انور نے سالانہ جلسہ ۱۳۲۲ / ۱۹۴۵ پر اپنے اس درد اور تڑپ کا اظہار بایں الفاظ کیا کہ : مجھے ہمیشہ یہ تڑپ رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت تمہارے دلوں میں پیدا ہو جائے اور اس سے سچا اور مخلصانہ تعلق تم کو حاصل ہو۔اور میں اس غرض کے لئے ہمیشہ کئی قسم کی کوششیں کرتا رہا ہوں۔یکس نے ہزاروں رستے اور ہزاروں ذرائع تمہارے سامنے رکھنے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ان ذرائع پر مل کر کے سینکڑوں اور ہزاروں مخلص بھی پیدا ہوئے مگر پھر بھی ہماری جماعت میں حقیقی اخلاص کی ابھی نمی ہے جس کے لئے لیکن اللہ تعالیٰ سے متواتر دعائیں کرتا رہتا ہوں۔اب اس موقع پر میکس ایک دفعہ پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یاد رکھو کہ میری موت یا حیات تو کوئی چیز نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی موت بڑی چیز تھی اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی موت ان سے بھی بڑی چیز تھی مگر اس حقیقت کے باوجود یکں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اگر جماعت حقیقی ایمان پر قائم ہو اور وہ خدا تعالیٰ سے سچا اور مضبوط تعلق رکھتی ہو تو کسی بڑے سے بڑے نبی کی وفات بھی اس کے قدم کو متزلزل نہیں کر سکتی بلکہ بعض برکات اور ترقیات ایسی ہوتی ہیں جو انبیاء کی وفات کے بعد قوم کو حاصل ہوتی ہیں بشر طیکہ قوم صحیح رنگ میں ایمان پر قائم ہو پس اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کر و اور اپنے نفوس میں ایسا تغیر رونما کرو کہ تمہارے دلوں میں یہ بات گڑ جائے کہ ہم نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ سے وابستہ کرنا ہے اور اُس کی محبت اور پیار حاصل کرنا ہے ، اسے حضرت مصلح موعود نے جماعت کو تحریک احمدیت کے اس بنیادی نقطہ کی طرف ایک بار پھر تو جبہ ولانے کے لئے اس سال محبت الہی کے پیارے موضوع پر متحد و خطبات دیئے۔یہ سلسلۂ خطبات ۳۰ ماه امان سے لے کہ ۲۰ ماہ شہادت تک جاری رہا۔ران پر معارف خطبات میں حضور نے کمال وضاحت سے بتایا کہ مذہب کے عملی حصہ کی بنیاد محبت الہی له الفضل ٢٢ صلح ه ۱۳۳۹ / جنوری ۱۹۶۰مه صلا به