تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 286
۲۸۱ کی بات کو پورا کر کے اس کا ہتھیار بن جائیں کیونکہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا ہتھیار بن جاتا ہے وہ بابرکت ہو جاتا ہے۔حضرت میں موعود علی الصلوۃ والسلام کو خدا تعالی نے لانا فرمایا کہ میں تھے بہت برکتوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اگر حضرت مسیح موعود کے کپڑے آپ کے جسم سے چھو کر بابرکت ہو گئے تو یہ مجھ لو کہ اگرتم خداتعالی کے ہتھیار بن جاؤ گے تو م میں کتنی برکت پیدا ہو جائے گی یقینا اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے جسم کے ساتھ چھو جانے کی وجہ سے آپ کے کپڑوں کو برکت حاصل ہوگئی تو وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا ہتھیار بن کر خود اس کے ہاتھ میں آجائے گا وہ ان کپڑوں سے بہت زیادہ با برکت ہوگا کیونکہ حضرت مسیح موعود کو بھی اگر برکت دی تو خدا تعالیٰ نے دی اور آپ کے کپڑوں کو بھی اگر برکت دی تو خدا تعالیٰ نے دی ہیں یقیناً وہ ان برکتوں کا وارث ہو گا جو دنیا کی بڑی سے بڑی حکومتوں اور طاقتوں میں بھی نہیں پائی جائیں “ لے نوجوانان احمدیت کو قربانیوں کی دوا ا ا ا ا ا ا ا باب ہی منعقد ہوا جس میں حضر کا سالانہ اجتماع ربوہ میں امیر المومنین الصلح الموعود نے خدام کو بہت سی قیمتی ہدایات دیں بالخصوص مذہب کی اس بنیادی روح کی طرف متوجہ فرمایا کہ عقید ے اور قوت متحرکہ کے مجموعے کا نام ایمان ہے عمل کے بغیر محض عقید ہ کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا ہے اس سلسلہ میں انہیں قربانیوں کی پر زور دعوت دیتے ہوئے فرمایا :- یاد رکھو کہ اسلام کی ترقی کا وہ زمانہ تمہیں نصیب ہوا ہے جو پھر کبھی نہیں آئے گا جس طرح یہ درست ہے کہ اسلام جنت اب گرا ہے اتنا کبھی نہیں گرے گا اسی طرح یہ بھی یقینی امر ہے کہ جس شان سے اسلام اب پڑھنے کا اتنا آئندہ کبھی نہیں بڑھے گا اور تمہیں خدا نے قربانی کرنے کا جو موقع دیا ہے وہ آئندہ کسی کو میسر نہ آئے گا۔آج زمین و آسمان کا خدا ایک غلام کی حیثیت سے دنیا کی منڈیوں میں پک رہا ہے اور تمہاری چھوٹی سے چھوٹی قیمت بھی اسے خرید سکتی ہے۔خدا کی خدائی انسانی ذہن کے مطابق ہوتی ہے۔جب یکی نے خدا کو غلام کہا تو میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارا واحد اور احمد خدا نعوذ باللہ غلام ہے بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ آج دنیا کی نگاہ میں اس کی یہی حیثیت ہے اور آج تمہی ہو جنہوں نے اپنے بندا کی عزت اور عظمت دنیا میں دوبارہ قائم کرنی ہے۔جس قربانی کیلئے الفضل ۲۹ تبوک (ستمبر) من له الفضل ۲۵ راخه : (اکتوبر) ۱۳۲۹ ص۲ ے