تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 281 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 281

کر رہے ہیں جو کشمیر کی رائے شماری کو سخت نقصان پہنچانے والے ہوں گے۔مثلاً اس وقت یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مرزائیوں کو ایک اقلیت قرار دیا جائے۔اسی طرح مرد بھی۔جہاں تک مذہب کا سوال ہے ہم خود مرزائی نہیں ہیں اور اہلسنت و دیگر مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ہم میں سے بعض مرزائیوں کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں اور اب تک کرتے ہیں مگر یہاں تک کشمیر کے مسئلہ کا سوال ہے ہم اس فرقه دارانہ اختلاف کو کشمیر کی آزادی میں رخنہ انداز ہونے دینا کسی صورت میں پسند نہیں کرتے۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستانی حکومت کچھ عرصہ سے مغربی حکومتوں پر یہ زور دے رہی ہے کہ جن جن علاقوں میں جس فریق کی اکثریت ہو ائی علاقوں کو اپنے ہمدرد لوگوں سے ملا دیا جائے۔وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اس اصل کو پنجاب اور بنگال کے حق میں مان چکا ہے کیوں نہ وہی اصل کشمیر کے تعلق بھی تعلیم کیا جائے کیونکہ پاکستان ایک دفعہ اس اصل کو تسلیم کر چکا ہے۔اس دلیل کا اثر مغربی دماغ پر بہت پڑھتا ہے اور قریباً ہر یو این او کے نمائندے نے زور لگایا ہے کہ اس پر فیصلہ ہو جائے تو اچھا ہے اور مغربی اخبارات خصوصا امریکہ اور انگلستان کے اخبارات اس نظریہ کی تائید میں مضامین بھی لکھتے رہے ہیں۔ان حالات یہ ہمیں بہت ہوشیار رہنا چاہئیے کہ کشمیر کا کوئی حصہ ایسا نہ ہو جہاں کی رائے شماری مشکوک ہو جائے۔اگر ایسا ہوا تو کشمیر کا مستقبل با الکل تاریک ہو جائے گا اور کشمیر کا مسلمان زندہ درگور ہو جائے گا۔اس حقیقت کو مد نظر رکھ کر اگر آپ کشمیر کے نقشہ کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جیتوں کے ہندو علام کے ساتھ اگر انت ناگ (اسلام آباد) کا علاقہ مل جائے تو سرینگر کا تعلق جموں سے ہو جاتا ہے کیونکہ ایک طرف اننت ناگ سری نگر کو راجوری اور اودھم پور سے ملاتا ہے تو دوسری طرف جموں سرینگر روڈ انت ناگ میں سے ہو کر گزرتی ہے لیکن اننت ناگ پاکستان سے ملے تو سری نگر لا زگا پاکستان سے ملنے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ کوئی باقاعدہ راستہ اسے ضلع اننت ناگ سے باہر حمتوں سے نہیں ملاتا پیس اننت ناگ ضلع کی حیثیت رائے شماری کے لحاظ سے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ہم لوگ جو اس علاقہ کے رہنے والے ہیں جانتے ہیں کہ اس علاقہ میں مرزائیوں کا کافی زور ہے اور اچھے زمیندار اور تاجر اور بعض سالم گاؤں پاس پاس احمدیوں کے ہیں۔گذشتہ سے پیوستہ الیکشن میں شیخ عبد اللہ کی پارٹی کے خلاف احمدی ہی کو نسل کے لئے کھڑے ہوئے تھے مگر گو وہ شیخ عبداللہ