تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 280 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 280

۲۷۵ پنجاب اور دیگر علاقوں سے جو مسلمان مغربی یا مشرقی پاکستان میں گئے ہیں انہیں غیر مسلموں کی متروکہ جائدادوں میں سے زمین ، مکان ، دوکانیں لی ہیں اور ان میں سے نوے فیصدی آباد ہو چکے ہیں اور بعض تو پہلے سے اچھی حالت میں ہو گئے ہیں۔بڑے بڑے کارخانوں کے مالک بن چکے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن اور علاقہ کا چھوڑنا بھی بہت قربانی ہے اور ابتدائی دنوں میں جو ان لوگوں نے جانی قربانیاں پیش کیں، وہ بھی بہت بڑی قیمت رکھتی ہیں ہم ان کی قدر کرتے ہیں لیکن ہم نے صرف مقابلہ کے لئے لکھا ہے کہ ان میں سے اکثر نے جائداد کے مقابلہ پر جائداد اور تجارت کے مقابلہ میں تجارت اور کارخانہ کے مقابلہ میں کارخانہ حاصل کر لیا ہے لیکن وہماری قربانیاں بھی اسی رنگ کی ہیں مگر ہم نے حاصل کچھ نہیں کیا ہم اب تک بھی مہاجر ہیں اور خدا معلوم کب تک نہا جھہ رہیں گے۔کشمیر ویلی اس وقت تک ساری کی ساری شیخ عبد اللہ کی حکومت میں ہے اور ہمارا وطن اور ہماری جائدا دیں دشمن کے قبضہ میں ہیں ہم صرف اس امید پر جی رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے کشمیر پاکستان سے ملا دے تو ہم جاکر چھتوں کے نیچے سوئیں، اپنی تجارتیں اور اپنی زمینیں سنبھالیں اور اپنے بیوی بچوں سے ملیں جو ایک سیاسی دیوار کے اُس طرف ہماری یاد میں ظالموں کی ٹھوکریں کھا کر جی رہے ہیں تین طرح ہم انکے ملنے کی اُمید میں دیوار کی دوسری طرف خدا کے فضل اور اس کے بعد اس کے اُن بناروں کی کوششوں کے نتیجہ پر آس لگائے بیٹھے ہیں جنہوں نے اسلام کے رشتہ کا احترام کر کے ہمیں غلامی سے آزاد کرانے کا بیڑا اٹھایا ہے خصوصاً صوبہ سرحد اور آزا د قبائل علاقہ کے لوگ جنہوں نے عملاً جنگ کشمیر میں حصہ لے کر سینکڑوں ہزاروں شہداء کے خون سے ہماری وادی کو ہمیشہ کے لئے وادئی شہداء بنا دیا ہے اور کشمیر اور سرحد اور آزاد علاقہ کے درمیان محبت اور پیار کی ایک مضبوط گرہ باندھ دی ہے۔مگر جہاں ہم آپ لوگوں کی قربانیوں اور ہمدردیوں کے ممنون ہیں وہاں ہم آپ سے یہ بھی امید کرتے ہیں کہ آپ اپنے نیک کام کو انجام تک پہنچائیں اور کسی غلطی کے مرتکب ہو کر اور کسی غلطی کرنے والے کا ساتھ دے کر اپنی ساری کوشش کو خاک میں نہ ملا دیں۔برادران ! آپ جانتے ہیں کہ گذشتہ سالوں میں ہمیں یہی امید دلائی جاتی رہی ہے کہ کشمیرمیں سے اشاری ہو کر اس کے مطابق فیصلہ ہوگا اور کشمیر آزاد بی حاصل کر کے آرام کا سانس لے گا ایک ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ دنوں سے ہندوستانی گورنمنٹ کی شہ پر وہ لوگ جو پہلے کانگریس کا بایاں بازو تھے ایسے سوالات پیدا