تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 240 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 240

۲۳۵ ایک رحصہ ہیں یا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں اور سکھوں کا منصوبہ تھا کہ وہ کہیں احمدی مسلمان نہیں۔انہیں نکال کر معلوم کرو کہ آیا ضلع گورداسپور میں سلمان اقلیت میں ہیں یا اکثریت ہیں۔لیگ اسے بھانپ گئی اور اس نے پاکستان کی حمایت میں احمدیوں سے علیحدہ حضرت پیش کر وا دیا۔دیکھو یہ احراری جھوٹے ہیں پہلے انہوں نے کہا میمورنڈم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے پیش کیا تھا اور اس لئے علیحدہ میمورنڈم پیش کیا کہ احمدی مسلمان نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میمورنڈم شیخ بشیر احمد صاب نے پیش کیا اور سر تیجا سنگھ کے اس سوال کے جواب میں کہ احمدیوں کا موقف کیا ہے شیخ بشیر احمد صاب نے کہا ہم شروع سے آخر تک مسلمان نہیں اور اپنے آپ کو اسلام کا ایک تقصہ سمجھتے ہیں گرا حوار جھوٹ بول کر کتے ہیں کہ ہم نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے یہ کہا کہ ہم سلمان نہیں ہم مسلمانوں سے الگ ہیں۔کیسی شاعر کا شعر ہے ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چہ چا نہیں ہوتا یہ لوگ کھنا بھی جھوٹ بولیں انہیں کوئی کچھ نہیں کر سکتا لیکن بدنام ہم ہیں ہم کتے ہیں ہم مسمانوں کا ایک حصہ ہیں لیکن وہ کہتے ہیں، انہوں نے کہا تھا ہم مسلمان نہیں ہے کو نہیں کہہ دینا کیا چھوٹی سی بات ہے ؟ خلاصہ یہ ہے کہ احمدیوں کا الگ میمورنڈم پیشیں کرنا احمدار کی اس شرارت کو ختم کرنے کے لئے تھا کہ احمدی مسلمان نہیں کیونکہ اگر اس کا جواب احمدی میمورنڈم میں دوسرے مسلمانوں کی حمایت کر کے نہ دیا جاتا تو گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت کو ہندو سکھ اعدادو شمار سے غلط ثابت کر سکتے تھے۔یادر ہے کہ میٹالہ تحصیل میں مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب تھی اور احمدی ووٹ پچپن ہزار ووٹ میں سے پانچ ہزار سے اوپر تھا اور تحصیل گورداسپور شکر گڑھ اور پٹھانکوٹ میں دو ہزار سے زائد تھا اس ووٹوں کے لحاظ سے احمدیوں کی تعداد زیادہ۔۔۔بنتی ہے مگر چونکہ احمدیوں میں تعلیم زیادہ تھی اس لئے تعلیم کی وجہ سے ان کے ووٹ ساٹھ ہزار میں سے اتنے بن گئے۔صرف قادیان میں احمدی بارہ ہزار سے زائد تھے اور ارد گرد کے پانچ چھ دیہات میں مزید پانچ ہزار تھے۔گویا صرف قادیان اور اس کے اردگرد کے دو دو میل کے خلقہ میں احمدی سترہ ہزار تھے یعنی ۶۵ ! سارے ضلع کی آبادی کے۔اگر قادیان کے علاوہ کوئی احمدی