تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 222
FIZ میں دوستوں کو حسب پسند الائمنٹ کی کوشش کی جائے گی لیکن اگر کسی محلہ میں قطعات کی مقررہ تعداد سے زائد کا مطالبہ ہوا تو جن دوستوں کی رقمیں پہلے داخل خدا نہ ہوئی ہیں انہیں ترجیح دی جائے گی جن دوستوں کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں آئے گی ان کے لئے محلے کا فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا جائے گا۔یہ اعلان پہلے کیا جا چکا ہے کہ رشتہ داروں کو بھی اکٹھا کرنے کی کوشش کی جائے گی بعض دوستوں کی طرفت سے اطلاعات آچکی ہیں باقی جو دوست بھی پلاٹ اکٹھے کروانا چاہیں وہ اطلاع دیں لیکن یہ خیال رہے کہ صرف خونی رشتہ یعنی باپ، بیٹا، بہن، بھائی اور ایسی طرح بیوی کے خونی رشتے اکٹھے کئے جائیں گے جن دوستوں نے اپنی پہلی اطلاعات میں رشتہ کی اطلاع نہیں دی وہ اس کے مطابق مکمل اطلاعات دوبارہ بھیجوا دیں۔ایسی اطلاعات دفترمیں از فروری تک پہنچ جانی چاہئیں کالے اس اعلان کے بعد جس میں الاٹمنٹ کے طریق کار پر فصل روشنی ڈالی گئی تھی بذریعہ الفضل ۱۴ تبلیغ بر فروری کو یہ اعلان بھی شائع کیا گیا کہ مطلوبہ اطلاعات کے لئے ۲۸ ماه تبلیغ فروری تک انتظار کیا جائے گا اس کے بعد انشاء اللہ قطعات کی الاٹمنٹ شروع کر دی بھائے گی لیکن جو دوست فوری طور پر مکان تعمیر کرانے کے خواہشمند ہوں ان کے لئے قطعہ بھی فوراً الاٹ کر دیا جائے گا۔این اطلاعات کے مطابق جلد ہی الاٹمنٹ شروع کر دی گئی سب سے پہلے جن محملوں کی الاٹمنٹ شروع ہوئی وہ محلہ الف ( دار الیمین) اور عن (دار الصدر) تھے۔اس کے بعد محلہ ب (باب الابواب) اور ط (دار الفضل) کی الاٹمنٹ کی گئی۔دارا الصدر میں سب سے پہلی کو بھی نواب محمداحمد صاحب کی تعمیر ہوئی۔دارالیمن میں پہلا مکان ٹھیکیدار نور احمد صاحب کا بنا اور باب الابواب اور دار الفضل میں آبادی کی داغ بیل ڈالنے کی سعادت بالترتیب چوہدری عبد اللطیف صاحب اور کیپٹن نواب دین صاحب کے حصہ میں آئی۔مرکزی عمارات کاسنگ بنیاداور میر را اور امی کو حر مال مو د نے اپنے ۲۹ ماہ ہجرت / حضرت موعود وست مملوک سے سوا سات بجے صبح اپنے ذاتی مکان کا اور اس ماہ ہجرت کو مندرجہ ذیل مرکزی عمارات کا سنگ بنیاد رکھا اور دعا فرمائی:۔تعلیم الاسلام ہائی سکول - قصر خلافت - دفاتر تحریک جدید - دفاتر صدر انجمن احمدیہ - دفاتر له الفضل ۲۵ صلح ۲۹ حث سے یہ مکان ربوہ بھر میں پہلا رہائشی اور ذاتی مکان تھا جو تعمیر ہوا ؟