تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 179
۱۷۴ ہوں اور ہجرت کے بعد ضلع جھنگ میں مقیم ہوں۔اور جہاں تک جائداد کا سوال ہے یہاں سے کسی رہنے والے کو مجھ پر شکوہ نہیں ہو سکتا۔اگر کسی کو مجھ پر کوئی شکوہ ہے تو کسی جائداد کے جھگڑے کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ شکوہ مولویوں کی ان باتوں سے ہے کہ میں (نعوذ باللہ ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہوں مجھے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے یا مجھ پر پتھراؤ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔وہ اسلئے ایسا کرتا ہے کہ وہ اپنی غلط محبت کی وجہ سے مجھے رسول کریم صل اللہ علیہ سلم کا دشمن سمجھتا ہے۔میرے لئے تو یہ بھی خوشی کا موجب ہے کہ وہ میری مخالفت کی وجہ سے شورش کرتے ہیں جو انہوں نے عملاً نہیں کی یا وہ مجھے پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں جو عملاً انہوں نے نہیں کیا۔اگر وہ عملاً بھی ایسا کرتے تب بھی میں خوش ہوتا کہ ان کے اندر میرے آقامحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو ہے۔آخر یکیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اتباع میں سے ہوں آپ کو شعر کی صورت میں ایک الہام ہوا اس کے الفاظ لیکن پہلے شنا دیتا ہوں اور پھر اس کا ترجمہ کر دوں گا۔اس وقت لوگ بڑی مخالفت کرتے تھے میں ابھی بچہ ہی تھا لا ہور میں حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام ایک دعوت سے واپس تشریف لا رہے تھے آپ جب بازار میں سے گزر رہے تھے لوگ چھتوں پر کھڑے ہو کر آپ کو گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے مرزا دوڑ گیا مرزا دوڑ گیا۔اسی اثناء میں میں نے ایک بڑھے کو دیکھا جس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا اور اس پر تازہ ہلدی لگی ہوئی تھی جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ابھی ہاتھ کٹے زیادہ دیر نہیں ہوئی۔میں نے دیکھا کہ وہ بڑھا اپنا صحیح ہاتھ کئے ہوئے ہاتھ پر مارکر کہہ رہا تھا مرزا نٹھ گیا مرزا نٹھ گیا۔میں حیران تھا کہ آخر یہ کیوں کہتا ہے مرزانٹھ گیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود لاہور شہر میں جا رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے حملہ کیا اور آپ زمین پر گر گئے۔اس طرح لوگوں کو پتھراؤ کرتے ہم نے کئی دفعہ دیکھا ہے۔غرض ان دنوں مخالفت بڑے زوروں پر تھی اور قدرتی طور پر جماعت کے بعض دوستوں کو بھی غصہ آجاتا تھا کہ آخر یہ لوگ بلا وجہ ایسا کیوں کرتے ہیں اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا اے دل تو نیز خاطر اینان نگهدار کا آخر کنند دعوی حست بمیرم یعنی حضرت مسیح موعود کے دل میں خدا تعالیٰ یہ الفاظ ڈالتا ہے اور فرماتا ہے اسے ہمارے مامور ایہ