تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 91 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 91

رکھتے اور بغرض تبلیغ تقسیم کیا کرتے تھے۔سید نا حضرت مصلح موعود ہم نے ان کی وفات پر فرمایا :- و منشی محمد اسمعیل صاحب نهایت ساده طبع نیک اور صاحب الہام آدمی تھے ان کو کثرت سے الہام ہوتے تھے۔اور وہ کثرت سے دعائیں کرنے والے انسان تھے۔نماز تہجد کے اتنے پابند تھے کہ بیماری کی حالت میں بھی تجد نہیں چھوڑی۔آپ سمال میں ہی سیالکوٹ میں فوت ہوئے ہیں۔آپ مولوی عبدالکریم صاحب کی بڑی بیوی (جن کو مولوی صاحب کی وجہ سے ہم مولویانی کہا کرتے تھے ) کے بھائی تھے۔نہایت مخلص اور اچھے نمونہ کے احمدی تھے اور تبلیغ میں اِس طرح منہمک رہتے تھے کہ ایسا انہماک بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔سکول سے پیش کی اور ریل اور ڈاکخانہ کے محکموں میں جو کوئی ہند و قادیان آجا تا اس کو پکڑ لیتے اور اسے قرآن کریم پڑھانا شروع کر دیتے ہیں نے خود ایک ہندو کو دیکھا ہے جس نے اُن سے قریباً ہمیں سپارے ترجمہ کے ساتھ پڑھ لئے تھے۔وہ دل سے مسلمان تھا۔اب شاید پاریشن کے بعد وہ ہندوستان چلا گیا ہو کیونکہ اس کا نام ہندوانہ ہی تھا لیکن دراصل وہ مسلمان تھا۔نمازیں پڑھتا تھا۔اسی طرح روزے بھی رکھتا تھا۔وہ صرف انہی کے طفیل اور ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں مسلمان ہوا تھا لے حافظ حمامات بادام مواد والصلاة والسلام حضرت حافظ جمال احمد صاحب مجاہد بارشیں : سے ان تمتاز صحابہ یںسے تھے جو عنوان مشہاب سے حضوڑ کے دامن سے وابستہ ہوئے اور مئی شائر میں بمقام لاہور حضرت اقدس کی زیارت سے مشرف ہوئے چنانچہ فرماتے ہیں :- میرے والد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بذر راجہ خط حضور اقدس کی بیعت کی تھی اور میں اُس وقت قریباً پندرہ سولہ برس کا تھا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام آخری ایام میں لاہور میں قیام فرما تھے لاہور میں آیا اور مجھے حضور کی زیارت نصیب ہوئی اور میری آمد سے پندرہ سولہ روز بعد حضور اس دار فانی سے رحلت فرما گئے یا سے که روزنامه الفضل ۱۶ تبلیغ ه۳۳۹ ۱ مطابق ۱۶ فروری ۹۵ از جنگ به کے روایات صحابہ (غیر مطبوعہ) جلد ۲۴