تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 90 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 90

A4 آپ نے عرض کیا بہت لوگ مخالف ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے ایک روح پرور تقریر فرمائی جسکے آخری الفاظ یہ تھے:۔خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ جہاں ہماری مخالفت میں زیادہ شور اُٹھا ہے وہاں ہی زیادہ جماعت تیار ہوئی ہے۔جہاں مخالفت کم ہے وہاں ہماری جماعت بھی کم ہے ؟ حضور کی یہ تقریر میع کو الف ملتان الحجم ۲۴ اگست نشہ میں چھپ چکی ہے۔میاں نور محمد صاحب غریبوں کے ہمدرد اور منکسر المزاج تھے۔نماز تہجد کے با قاعدہ پابند تھے حضرت مسیح موعد وعلیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے اکثر آنسو رواں ہو جاتے تھے۔خاندان حضرت مسیح موعود سے بے انتہا محبت تھی۔ترقی احمدیت ، درویشان قادیان اور سیا سلسلہ اور خاندان حضرت مسیح موعود کے لئے درد دل سے دعائیں کیا کرتے تھے۔گنگا رام ہسپتال لاہو میں فوت ہوئے۔جنازہ حضہ تصلح موعود نے پڑھایا اور تدفین قبرستان ربوہ میں ہوئی۔لہ ملفين (ولادت ۶-۱۸۶۶مه ، زیارت - حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی وفات ۱۰ دسمبر ۱۹۹) - یری { : ۱۸۹۳ در بیعت ته حضرت میں نوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹیج کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔سیالکوٹ کے اکابر صحابہ حضرت میر سام الدین صاحب ہے ، حضرت میر حامد علی شاہ صاحب ، حضرت چوہدری نصر اللہ خان جنات آپ سے بوجہ تقدیمی اور پارسائی بہت محبت رکھتے تھے تبلیغ احمدیت کا خاص شخص تھا۔خلافت ولی کے عہد مبارکہ میں آپ کو قادیان بلا لیا گیا۔آپ قادیان اور اس کے ماحول میں قرآن پڑھاتے اور پیغام احمدیت پہنچانے رہے تھے۔کئی لوگ آپ کے نیک نمونہ سے شامل احمدیت ہوئے سیکس ملہ کی ہر تحریک پر لبیک کہتے تھے۔آپ مدیسی تھے اور شریک جدید کا چندہ اعلان ہوتے ہی ادا کر دیتے تھے۔آپ نے چند مسجد لنڈن اور تراجم القرآن کی تحریک میں بھی حصہ لیا۔حضرت مفتی صاحب کو ارتداد مالکانہ کے دوران شاہ اور سلمہ میں دو بار علاقہ اجمیر میں بھیجا گیا۔۱۹۳۹ سر میں آپ نے چار ماہ تک تیریاں اور مرتے پور ضلع ہشیار پور میں تبلیغ کی ہمیشہ دور میں اردو اپنے پاس ه روزنامه الفضل يتم فتح مکه مت۔شه