تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 84
69 اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ماہ توکہ استمبر عرش تک درویشان قادیان کی سرفروشانہ جد و جہد کے نتیمہ میں ۱۳۴ مرد و زن پاکستان پہنچ چکے تھے جن میں سے مسلمان عورتیں تھیں اور ۵۷ مسلمان مرد تھے۔یہ درویشوں کی یہ بے لوث اور پاک ، اور مخلصانہ کوششیں جاری تھیں کہ ماہ نبوت / نومبر شد میں بٹالہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس قادیان، آئے اور سب احمدی آبادی کو مدرسہ احمدیہ کے صحن میں جمع کرکے، اُن کے نام اور پتہ جات وغیرہ نوٹ کئے اور یہ معلوم کیا کہ ان میں سے قادیان اور اس کے گردو نواح کے رہنے والے کتنے ہیں۔نیز حکم دیا کہ قادیان میں چونکہ کوئی منظور شدہ کیمپ نہیں ہے اس لئے آپ لوگوں کو ارد گر د سے نکل کر آئے ہوئے مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنے پاس نہیں ٹھہرانا چاہیے ۲۵ نشاق احمدیت کی دیار حبیب حضرت صلح موعود نے مجلس مشاورت بر پیش میں تحریک ۶۱۹۴۸ فرمائی تھی کہ عشاق احمدیت قادیان کی جگہوں کو آباد کرنے کے لئے میں تشریف آوری اپنے نہیں پیش کریں بنضور کی اس آواز پر لبیک کہنے والوں ایک خوش نصیب تا فرار مشروع ماه مجید امئی سے یہ ہش میں صبح بجے لاہور سے روانہ ہوا حضرت سیدنا امیر المومنین المصلح الموعود نے افراد قافلہ کو شرف مصافحہ بخشا اور اجتماعی دعا کے ساتھ الوداع کہا۔اس قافلہ میں بارہ صحابہ بھی سمجھتے جن میں حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب (امیر قافلہ ) اور حضرت بھائی عبد الرحمن صاح قادیانی جیسے قدیم اور ممتاز صحابہ بھی شامل تھے۔یہ قافلہ لڑکوں کے ذریعہ قادیان پہنچا۔ملٹری چوکی کے سیکھے افسروں نے قریباً پون گھنٹہ میں آنے والوں کی اہم وار فہرست تیار کی جس کے بعد یہ قافلہ مجسٹریٹ صاب ملٹری پولیس کی کافی تعداد ، چند سائیکل سواروں اور دو ایک شہسواروں کے جھرمٹ میں دارالشکر سے ہوتے اور فروٹ فارم ، اسٹیشن کو ٹھی حضرت چودھری فتح محمد صاحب، سیمال سے گذرتے ہوئے دارالا نوالہ کی بڑی سڑک سے داخل شہر ہوا اور مولوی عبد المغنی خاں صاحب اور نیک محمد میاں صاحب غزنوی کے مکان کے پاس تھا کہ ڈکار کے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس قافلہ کی آمد کے موقعہ پر ہر جستہ امیش کو مولانا ه الفضل هر تبوک استمبر بش صفحه ۰۴ الفضل لاہور، نبوت انو مبرمش صفحه ۱۵ SHNA له الفضل ۱۲ هجرت منی اش صفا الفضل اور ہجرت استی سکی اش صفر ۲ :