تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 83 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 83

معمر بزرگ بابا بھاگ کا ہر وقت پہرہ رہتا ہے۔وہ ان کی ضروریات مہیا کرتا ہے۔وہاں کسی اور مرد کو بھانے کی اجازت نہیں۔بابا مذکور حسیں تقدمت گزاری سے کام کرتے ہیں وہ اس امر سے ظاہر ہے کہ ایک شخص نے پاکستان سے لکھا ہے کہ اس کی ہمشیرہ بابا بھاگ کی مخلصانہ مقدمات کو یاد کرتی ہو تو رو دیتی ہے۔ہمارے موجودہ امیر مولوی عبدالرحمن صاحب کوٹ سابق جنرل پریذیڈنٹ قادیان ہیڈ ماسٹر ذاتی طور پر بھی ان کا بہت خیال رکھتے ہیں۔انہیں کپڑے اور جوتیاں بنوا دیتے ہیں اور ان کے لاہور پہنچنے سے پہلے پہلے ان کے اقارب کا ہو پاکستان میں ہوتے ہیں پتہ حاصل کر لیتے ہیں اور انہیں اطلاع بھجوا دیتے ہیں۔چنانچہ جب عورت میں لاہور پہنچتی ہیں تو ان کے اقارب انہیں بلدی آکر لے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں اردگرد کے دیہات میں بکثرت ایسے مسلمان خاندان موجود ہیں جو سکھ بنے ہوئے ہیں لیکن پاکستان جانے کے خواہشمند ہیں۔ہم انہیں اپنے پاس آنے کے طریقے بتاتے ہیں۔تستی دیتے ہیں اور آجانے پہ ان کا روپیہ لے کہ صدر انجمین احمدیہ قادیانی کے خزانہ میں جمع کرلیتے ہیں تاکہ راستہ میں ضائع نہ ہو۔یہ روپیہ انہیں ؟ اور پہنچ کر وہاں کی صدر آئین اویہ کے خزانہ سے کل جاتا ہے۔قادیان پہنچ جانے پہ ان کے قیام و طعام کا انتظام کرتے ہیں اور نگرانی رکھتے ہیں کہ غیر مسلم انہیں علیحدگی میں نہ ملیں مبادا وہ اپنی سادہ لوحی سے دھو کہ ہیں اگر پھر واپس چلے جائیں۔ان اغوا شدہ عورتوں اور سکھ بنے ہوئے مسلمانوں سے ہماری ذرا بھی سابقہ معرفت نہیں ہوتی لیکن ہم محض بمذبہ اخوت اسلامی سے سرشار ہو کہ بعد اتعاملے کی خاطر ان کی خدمت بجا لاتے ہیں اس سلسلہ میں میں دو ضروری باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ایک یہ کہ اگر کسی مسلمان عورت کے متعلق آپ کو علم ہو کہ مشرقی پنجاب میں ہے تو مہربانی کر کے اس کے جملہ کو الفت سے نہیں مطلع فرمائیں۔ہم حتی الامکان بر آمدگی کے لیے پور کی پوری کوشش کریں گے۔دوسرے یہ کہ پاکستان میں جو غیر مسلم اغوا شدہ عورتیں موجود ہیں ان کی برآمدگی کے لئے بانی ہر ایک شخص کو سر توڑ کوشش کرنی چاہیے کہ اول تو مذہبا یہ قبل اغوا انتہائی طور پر نا جائز ہے۔دوم اُن کے بر آمد کرنے کا اثر یقینی طور پر مشرقی پنجاب میں بہت ہی اچھا پڑتا ہے۔کون مسلمان پسند کرتا ہے، کہ اس کی مسلمان بہنیں بر ستور اغوا شده ره کہ غیروں کے گھروں میں پڑ کی ہیں "۔لاہور کے احراری آرگن آزاد نے اپنی مٹی کی اشاعت میں یہ نمون یا کر سکا، درویشان قادیان کی مساعی پر تبصرہ کیا ہو تا ریخ مدیت جلد ۱ صفحہ ۳۹۳ - ۳۹۵ میں آچکا ہے ؛ İ ¦