تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 51
صاحب، انور وکیل الدیوان تحریک تجدید کے سپرد تھا۔یہ بھاروں مکر سے ۲۰×۳۰ فٹ کے تھے۔بقیہ تین میں سے دو کمر سے دس دس فٹ مربع میں تھے اور ایک کمرہ ۲۰ × ۱۰ کا تھا۔ماہ شہادت / اپریل میش کے پہلے جبکہ ربوہ پر اس پہلی عارضی عمارت میں لنگر خانے پہلے بیوہ قائم کیا گیا۔لیکن اس کے بعد جب دوسرے عارضی لنگر خانے تیار ہو گئے تو یہ عمارت پرائیویٹ رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہونے لگی جو اب تک موجود ہے۔حضرت مصلح موعود کی طرح سے نئے مرکز کی آبادی افتتات راو ہ سے قبل اور بعد جماعت احمد کے مرکزی آرگن" الفضل“ میں پے در پے اعلانات کئے گئے کہ جو معمار، بڑھئی ہمستری، و تم میں شرک کے راہنما یا حرف کو تیر رہنے کاحکم تعمیر حلوائی، دودھ فروش ، نانبائی ، حجام ، دھوبی ، مزدور یا دوسرے اہل حرفہ جو شہری ضروریات کے کسی کام کا تجربہ رکھتے ہوں اور نئے مرکز میں کام کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہوں وہ اپنی درخواستیں بھیجوا دیں۔ان اعلانات پر سینکڑوں دوستوں نے مخلصانہ لبیک کہا میں پر حضرت مصلح موعود نے جلسہ نامور مالیت کے موقعہ پر اظہار خوشنودی کیا اور انہیں ربوہ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا :- ہماری تحریک پر بڑھٹی ، معماروں اور دیگر کا ریگروں نے کئی سو کی تعداد میں مرکز میں کام کرنے کی درخواستیں دی ہیں۔میں اُن سب کو اطلاع دیتا ہوں کہ اب وہ پایہ ارکاب رہیں۔جس وقت بھی انہیں اطلاع دی جائے انہیں فوراً ربوہ پہنچ کر کام شروع کر دینا چاہیے۔یاد رکھو ہمارا ایک ایک دن بہت قیمتی ہے اور مرکز کے قیام میں ایک ایک گھڑی کی تعویق بھی ہمارے لئے مضر ہے" سے ملاحظہ ہو الفضل ۱ - ۱۱-۲۱ تبوک ستمبر له الفضل ۲۸ فتح / دسمبر میش صفحه ۳ +