تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 50
۴۹ قلعی صدر انجین و تحریک جدید کا فرض قرار دیا بھاتا ہے کہ وہ یہ انتظام کرے کہ روزانہ پچیس ہزار کچی پیٹیں تیار ہوں اور جو سرکنڈڑا خریدا گیا ہے اسے کٹوا کر منگوایا جائے اور ! جو اخراجات ان کاموں کے لئے مطلوب ہوں ان کا اسٹیمیٹ پیش کر کے منظور کیا حاصل کی بجائے " اس ارشاد پر اگر چہ خشت نظام تیار کی جانے لگی مگر پانی کی کمی اور مزدوروں کی قلت کے عبات رفتار بے حد شست رہی۔پیش آمدہ مشکلات کی بناء پر حضور سے درخواست کی گئی کہ چنیوٹ کے ایک ٹھیکیدار سے تیار شدہ کچی اینٹیں خرید لی جائیں۔مگر حضور نے نہایت سختی سے یہ تجویز رد کردی اور فرمایا کہ ہرگز نہیں جس نے ایسا کیا اسے جماعت سے فارغ کر دیا جائے گا۔میں کوئی تعدد نہیں سنوں گا۔۔۔جس طرح بھی ہو روزانہ پچیس ہزار اینٹ تیار ہونی چاہیئے۔اللہ تعالے جب اپنے برگزیدہ بندوں کے دل میں کوئی تحریک التقاء فرماتا ہے تو مضارت ہیں اس کے مطابق تغیرات اور مادی سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔چنانچہ راجہ محمد نواز صاحب سابق نگران تعمیر کا بیان ہے کہ ایک موقع پر جب حضور نے انہیں حکم دیا کہ روزانہ پچاس ہزار کچی اینٹیں تیار ہونی چاہئیں تو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اتنی تعداد تیار ہونے لگی۔روہ میں پہلی عارضی مات کی بنیاد اختر کی اینٹوں کی ایک معقول تعداد تیار ہوگئی المختصر جب تو سرماہ فتح / دسمبر پر پیش کو خیموں کی مشرقی جانب وسطی پہاڑی کے دامن میں پہلی عارضی عمارت کی تعمیر کا آغازہ ہوا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب چنیوٹ سے تشریف لائے اور اپنے ہاتھوں سے اس کی بنیاد رکھی۔اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے ربوہ میں موجود صحابہ نے بھی ایک ایک اینٹ نصب کی۔یہ پہلی عمارت سات کمروں پر مشتمل تھی۔یہ عمارت شروع میں چند ماہ تک دفتری گرام کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔چنا نچہ ایک کمرہ بابو نور احمد صاحب چغتائی کی زمین نگرانی سیمنٹ کے لئے مخصوص تھا۔ایک میں دفتر جائداد کا لاہور سے خرید شدہ فرنیچر رکھا گیا۔اور ایک میں انچارج صاحب لنگر خانہ نے گندم کا سٹاک رکھوایا۔ایک کمرہ میں لائیبریری کی کتب تھیں جن کا انتظام اُن دنوں مولوی عبدالامین ایش ه والد ما بود موادی رشید احمد صاحب چغتائی مجالد بلاد غربید (وفات امر ظهور اگست ۳۳ ( ش )