تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 46
هام آنے لگے گا۔اگر پانی پہلے ہی مل بھاتا تو لوگ کہہ دیتے کہ یہ وادی بے آب و گیاہ نہیں یہاں تو پانی موجود ہے۔پھر اس وادی کو بے آب و گیاہ کہنے کے کیا معنی؟ اب ایک وقت تو پانی کے بغیر گزر گیا اور با وجود کوشش کے ہمیں پانی نہ مل سکا۔آئندہ خدا تعالے کوئی نہ کوئی صورت ایسی ضرور پیدا کر دے گا کہ جس سے ہمیں پانی مل جائے۔اس لئے فسر مایا کہ جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا پاؤں کے نیچے سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اسماعیل قرار دیا ہے جس طرح وہاں اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے پانی بہہ نکلا تھا۔اسی طرح یہاں خدا تعالے میری دعاؤں کی وجہ سے پانی بہا دے گا۔یہ ایک محاورہ ہے جو محنت کرنے اور ڈھا کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ہم نے اپنا پورا زور لگا دیا تا ہمیں پانی مل سکے لیکن ہم اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوئے۔اب خدا تعالیٰ نے میرے منہ سے یہ کہلوا دیا۔کہ پانی صرف تیری دعاؤں کی وجہ سے نکلے گا ہم نہیں جانتے کہ یہ پانی کب نکلے گا اور کس طرح نکلے گا۔لیکن بہر حال یہ الہامی شعر تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالے کوئی نہ کوئی صورت ایسی ضرور پیدا کر دے گا جس کی وجہ سے وہاں پانی کی کثرت ہو جائے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اس شعر میں حضور " اور " جناب " دو لفظ کٹھے کئے گئے ہیں جو عام طور پر اکٹھے استعمال نہیں ہوتے۔لیکن چونکہ یہاں ادب کا پہلو مراد ہے اس لئے " آپ " کے لفظ کی بجائے یہاں حضور اور جناب کے لفظ استعمال ہوئے ہیں۔بہانے سے مطلب یہ ہے کہ پانی وافر ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ الہام کس رنگ میں پورا ہوگا۔ممکن ہے ہمیں نہر سے پانی مل جائے یا دریا سے پانی لے لیا جائے بنایا ہمیں کوئی اور اگر مل جائے جہاں پانی ہو اور اس وقت تک ہمیں اس کا علم نہ ہو۔بہر حال یہ نہایت ہی خوشکن الہام ہے اور یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے ایک الہام کی تائید کرتا ہے جو یہ ہے کہ ے نقل مطابق اصل :