تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 45
مشرقی کو نہ کے قریب کھدائی کا آغاز کیا گیا لیکن اس جگہ بو رنگ کے پائپ پھنس گئے تو اکھیڑ لئے گئے اور اس کی بجائے اسٹیشن کے قریب لائن کے دونوں طرف کھدائی کی جانے لگی۔چند دنوں کی کوشش سے ربوہ اسٹیشن کی جنوبی سمت میں ایک جگہ نسبتاً میٹھا پانی نکل آیا اور ماہ شہادت اپریل ۳ ایش کہ پہلے سالانہ جلسہ کی تقریب پر ٹونکے لگا دیئے گئے۔چھ سات ماہ کی لگاتار اور تھکا دینے والی محنت و مشقت کا نتیجہ لیں یہ چند نلکے ہی تھے جن میں سے اکثر کھاری یا نیم کھائی پانی کے تھے اور جو ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد نصب کئے جا سکے تھے۔یہ تو خدا تعالیٰ کی خاص عنایت ہوئی کہ اس جلسہ پر حکومت کے محکمہ حفظان صحت نے پانی بہم پہنچانے کے لئے ٹینکروں کا انتظام کر دیا وگرنہ پانی کی کمیابی مصیبت عظمی بن جاتی۔ان سراسر مخالف اور بے بعد مایوس کن حالات میں جبکہ ظاہری اور مادی سامان بالکل ناکام ثابت ہو گئے حضرت رب العزت کی طرف سے اپنے مقدس تخلیفہ سید نا محمود المصلح الموعود کو یہ بشارت دی گئی کہ اللہ تعالے کوئی نہ کوئی صورت ایسی ضرور پیدا کر دے گا کہ ربوہ میں پانی کی کثرت ہو جائے۔یہ عظیم الشان آسمانی خوشخبری ۲۱ار شہادت اپریل رش کو ایک الہامی شعر کے ذریعہ دی گئی جس کی تفصیل پر حضور نے روشنی ڈالتے ہوئے اگلے ہی روز خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ " جلسہ کے اختتام کے بعد جس دن ہم ربوہ سے واپس چلے (یعنی ۲۱ اپریل سے براون جمعرات، مجھے ایک الہام ہوا۔۔۔۔مجھ پر ایک غنودگی سی طاری ہو گئی۔اس نیم غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں مندا تعالے کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھ رہا ہوں ے جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب ناؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا a میں نے اسی حالت میں سوچنا شروع کیا کہ اس الہام میں ” جاتے ہوئے “ سے کیا مراد ہے۔اس پر میں نے سمجھا کہ مراد یہ ہے کہ اس وقت تو پانی دستیاب نہیں ہو سکا لیکن جس طرح حضرت اسمعیل علیہ السّلام کے پاؤں رگڑنے سے زمزم پھوٹ پڑا تھا۔اسی طرح اللہ تعالے کوئی ایسی صورت پیدا کر دے گا کہ میں سے ہمیں پانی با فراط میتر