تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 36 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 36

۳۵ صدر انجین احمدیہ پاکستان کی صدر امین احمدیہ پاکستان کی طرف سے بعد ازاں اپنے موقف کی تائید میں جو گزارشات حکومت کے اعلیٰ اور وقتہ دار حکام کے سامنے گزارشات ایک نظر میں بھی گئیں ان کا ملخص درج ذیل کیا جاتا ہے تا آئندہ آنے والے لوگوں کو علم ہو کہ ربوہ بساتے وقت جماعت احمدیہ کو کیسی کیسی مشکلات سے دو چار ہونا پڑا۔صدر انجمن احمدیہ درخواست کرتی ہے کہ کو جگہ دیدہ کا لونی میں مکانوں کے لئے ٹاؤن پلینز صاحب نے تجویز کی ہے وہ پچاس فیصدی کے قریب ہے حالانکہ عام قائدہ یہ ہے کہ آبادی کے لئے ساٹھ فیصدی کے قریب بدبین چھوڑی جاتی ہے۔پھر جو پچاس فیصدی زمین آبادی کے لئے چھوڑی گئی ہے اس میں سے بھی نصف سے کچھ زیادہ رقبہ پبلک انسٹی چیوشنز کے لئے پچھوڑا گیا ہے اور آبادی کے لئے کل رقبہ طہ سے کبھی کچھ کم رہ جاتا ہے۔اس لئے ہمیں ایک ہزار کنال زمین اور دی بجائے تاکہ گورنمنٹ کے تجویز کردہ اصول کے مطابق ساٹھ فیصدی رقبہ ہمیں عمارت کے لئے اور مل جائے۔علاوہ اس قانون کے ہمیں عملاً بھی ضرورت ہے۔کیونکہ قادیان کی آبادی بنیں ہزار کے قریب تھی کم سے کم دس ہزار آدمی بسانے کے لئے تو یہاں بنگہ ہونی چاہیئے۔چنانچہ مقررہ جگہ ختم ہو چکی ہے اور درخواستیں اور آرہی ہیں۔اس لئے اب اس کا علاج یہی ہے کہ اوپن سپلینر ( OPEN SPACES کھلی جگہیں جو قاعدہ مقررہ سے بہت زیادہ ہیں ان میں سے کچھ اور علاقہ ہمیں آبادی کے لئے دیا جائے اور اس نئے علاقہ کے لئے انہوں نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں جن کو میونسپل کمیٹی تے میں میں ڈی سی اور تحصیل دار میر میں منظور کیا ہے۔اس کے بعد مسٹر نے اپنے ڈی سی ہونے کی حیثیت میں اس کی تائید میں نوٹ لکھا ہے کہ میں نے خود ربوہ کو دیکھا ہے۔میرے نزدیک یہ درخواست انجمن کی معقول ہے۔اور اسے منظور کرنا چاہیے۔ٹاؤن بیلیز صاحب کو جب یہ درخواست برائے رپورٹ گئی تو انہوں نے اس پر یہ نوٹ لکھا کہ - انجمن سب تجویز کو پہلے خود منظور کر چکی ہے۔- انجمین احمدیہ زمین بڑی قیمت پر فروخت کر رہی ہے۔۴۔انجمن نے کوئی فہرست نہیں دی کہ کس قدر در تو انہیں آچکی ہیں اور کتنی زمین کی ضرورت ہے۔پلینر کی سکیم میں ۲۳۳۲ مکانوں کی گنجائش ہے اور اس میں، پانچی کس فی سکان کے