تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 35 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 35

۳۴ لئے فراخدلی سے وسیع قطعہ تجویز کیا گیا۔اس کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی زمین کے بیجا مصرف اور تعلم کھلا ضیات کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا گیا مثلاً -1 -A -4 شفاخانہ حیوانات کے لئے 1 کنال کا وسیع رقبہ تجویز کیا گیا جو ملک میں اُس وقت شاید ہی کسی بڑے سے بڑے زراعتی اور مرکزی مقام کے وٹرنری ہسپتال کو میتر ہو۔عیفہ تعلیم کے لئے بلا وتبہ ۵۰ کنال کا احاطہ رکھ دیا گیا۔پولیس لائنز اور سرکٹ ہاؤس کے نام پر ربوہ کے نقشہ میں بالترتیب ، ، اور ۲۱ کنال زمین مخصوص کر دی گئی۔نیز پولیس اسٹیشن (تھانہ کے لئے ۱۲ کنال کا مزید رقبہ دیا گیا۔۔ڈاک خانہ ، تار گھر اور ٹاؤن کمیٹی کے دفاتر کے لئے 4 کنال جگہ رکھی گئی جس کی کوئی ٹیک نہ تھی۔ربوہ کی مجوزہ آبادی کے مشرقی جانب ۳۲۵ کنال رقبہ زراعتی اغراض کی خاطر مخصوص کر دیا گیا۔حالانکہ اول تو یہ سارا قطعہ ہی مسلم طور پر نا قابل زراعت اور عام سطح سے بہت اونچا تھا۔دوم اسے زرعی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا قطعی طور پر ناممکن تھا۔۳۲۳ کنال بڑے بڑے کا رمضانوں کے لئے مختص کر دیئے گئے۔حالانکہ غریب نہا جوروں کی اس بستی میں جو خالص اسلامی ماتوں کی ترویج واشاعت کے لئے قائم کی جار ہی تھی کسی بھاری انڈسٹری کا قیام مخارج از امکان تھا۔-2 ربوہ کے تین پرائمری سکولوں کے لئے ۲ اکمال کے احاطے تجویز کئے گئے جو ضرورت سے کہیں زیادہ تھے۔اس پریشان کن ٹاؤن پلیننگ سکیم کے بعد گورنمنٹ انڈسٹریز اینڈ میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اور مارچ ۱۹۴۰ء کو جو شیڈول بھجوایا گیا وہ بھی اپنے اندر متعدد نقائص اور خامیاں رکھتا تھا۔صدر انجمن احمدیہ پاکستان نے تنضرت المصلح الموعود رضی اللہ تعالی عنہ کی ہدایت پر نوٹیفائیڈ ایر یا کمیٹی کے توسط سے جناب ڈپٹی کمشنر صاحب جھنگ کی خدمت میں پلینٹنگ سکیم میں ترمیم کے لئے اور گورنمنٹ پنجاب کے متعلقہ محکمہ کو شیڈول کی ترمیم کے لئے الگ الگ درخواستیں ارسال کیں جن میں نہایت تفصیل کے ساتھ پیدا شدہ جملہ شرابیوں کا نہایت معقول و مدتل رنگ میں سنائزہ لیا اور اُن کے ازالہ کے لئے ٹاؤن پینٹنگ کے مستند لٹریچر کی روشنی میں اپنے مطالبات پیش کئے۔