تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 29
۲۸ صحن وغیرہ اور پانی کے نکاس کے متعلق حد بندی کر دی جائے۔تالیاں نقشہ میں ضرور دکھائی جائیں۔جو نالیاں اور پر نالے نقشہ میں نہ دکھائے جائیں وہ بند کرنے پڑیں گے۔پہ نالہ کی تقسیم ہونی چاہیے اور اس کے متعلق اصول ہو کہ جس کے گھر کا پرنالہ ہو اسی کو اس کی آواز شنفتنی چاہیے ، دوسرے کو نہیں یا یہ کہ جس حد تک ہمسایہ اجازت دے دے۔اس کمیٹی کا فرض یہ ہوگا کہ نگرانی کرے کہ اس قسم کی کوئی حرکت نہ ہو جس سے ہمسایہ کو نقصان پہنچے۔ان قواعد کو چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کیا جائے بلکہ امتحان لیا جائے تاکہ اجازت لینے والا پھنس نہ بجائے اصل غرض ان قوائد کی یہ ہوتی ہے کہ لوگ کسی کے محتاج نہ ہوں۔ے۔یہ کمیٹی بھی الگ ہونی چاہیے۔اس میں امور عامہ ، ناظر علیم وتربیت، ہر محلہ کا پریزیڈنٹ اور وکیل الصنحت ہو۔دوکانات کی تجویز بھی اہم سوال ہے۔اس کے متعلق ایک باڈی بن جائے کہ کس قسم کی کتنی دوکانیں ہوں۔بازار کی پوزیشن کے متعلق بھی غور ہو کہ کس جگہ بنایا جائے۔ایک سیدھا بازار بنانا ہے یا کئی شاخوں میں گیس کس قسم کی دوکانیں ہوں۔منڈیوں کے متعلق غلہ منڈی، سبزی منڈی۔ایندھن کی سنڈی ، گوشت کی منڈی۔۔میرے خیال میں ہر چیز ایک حد تک مشترکہ ہونی چاہیے۔اگر گاہک آئے تو اس کو دے دیں ورنہ اپنی ضرورت پور استعمال کریں۔لیکن درمانہ سے اور کھڑکی کا ماڈل بنوا لیا جائے تا اس کے مطابق سب چیزیں آجائیں۔مثلاً دروازہ کھڑکی ۳۲۴ اوور سیر کے ساتھ ایک ڈراضسمین بھی رکھا جائے۔اس کے متعلق اخبار میں اشتہار دیا جائے۔تنخواہ کے متعلق کنجوسی نہ کی جائے۔گورنمنٹ کا قانون ہے کہ جسے عارضی طور پر لیا جائے اس کو اصل ریٹ پر ۲۵ بر زیادہ دیتے ہیں۔اگر ضرورت ہو تو آپ اس سے بھی زیادہ دے سکتے ہیں۔ربوہ میں ایک آدمی نہ ہو۔اگر آپ لوگوں کو یہاں بیٹھنا پسند ہے تو وہاں ایک شیڈ و انمین بنائی جائے بہر حال جب تک انجمن نہیں جاتی وہاں کوئی کام نہیں ہوگا۔میرے خیال میں یہ بوجھے سلسلہ اُٹھائے کہ سامان لانے کے لئے لاری یا ابتداء میں ایک سائیکل والی گاڑی