تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 300
۲۸۷ ہوا امور میں نے اوپر درج کئے ہیں ان میں سے بعض کے متعلق آپ مولوی ابو العطار حساب اور احمد نگر میں دوسرے دوستوں سے بھی مشورہ کر سکتے ہیں۔اور اس علاقہ کے پرانے زمینداراں سے بھی اپنے طور پر معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔۱- جب کام شروع ہوگا۔حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزینیا کی لاش کے لئے چنیوٹ میں کوئی موزوں مکان ( کی ضرورت ہوگی۔چنیوٹ اسٹیشن کے نزدیک شہر سے باہر کوئی بنگلے ہیں جو شاید پناہ گزینوں کے قبضہ میں ہوں گے۔ان کا خیال رکھیں حبیب ان میں سے کوئی ننگہ خالی ہو لوٹا اپنے نام الاٹ کرانے کی کوشش کریں۔حضرت صاحب کے طبیعت سے آپ واقف ہیں۔حضور ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ کسی کو تکلیف پہنچے جو مکان آپ حاصل کریں ایسے طور پر عمل ہو کہ کسی کو وجہ شکایت نہ پیدا ہو۔11- احمد نگر اور لالیاں میں بھی حضور کے لئے مکان ہونا چاہئے جہاں آپ کبھی کبھی استراحت فرما سکیں۔لالیاں ہیں تو ڈاک بنگلہ موجدہ ہے لیکن احمد نگر میں ایسی صورت نہیں وہاں جس جگہ ٹھیکہ ہم نے کھانا کھایا تھا وہ ٹوٹے پھوٹے مکانات ہیں۔گاؤں کے اندر مسجد کے نزدیک اگر کوئی مکان ہو جو تھوڑے نظیر و تبدل کے بعد حضور کی عارضی رہائش کے لئے موزوں بن سکے تو بہتر ہو گا۔بلاس یہ وادی غیر ذی زرع میں مہاجرین قادیان کی بستی کی بنیاد رکھی جانے والی ہے۔ہمارے دوستوں کو جو چنیوٹ میں ہیں اور جو احمد نگر میں میں تعطیل کے دن وہاں پہنچے کہ دعائیں کرنی چاہئیں اور وہ نظار و قائم کرنا چاہیے جو حضرت ابراهیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کی بنیاد رکھتے وقت اپنی دعاؤں سے قائم کیا تھا۔۱۳ اس نواح میں جو احمدیوں کے مواضعات اضلاع جھنگ، لائل پور سرگودھا میں واقعہ ہیں۔اُن کا بھی آپ پتہ لے رکھیں۔١٢- لالیاں اور چنیوٹ میں غالباً کپاس وغیرہ کے کارخانے ہیں۔ان کی میعاد اگست تک ہے۔جن لوگوں نے پچھلے مہینوں میں کارخانوں کو ٹھیک طور پر نہیں چلایا ان سے کارخانے لے کر غالبا دوسروں کو بچہ انتظام کے اہل ہوں دیئے جائیں گے ان کارخانوں کی بابت کبھی آپ معلومات حاصل کریں۔