تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 299
۲۸۶ اراضی زیر بحث میں ایک ٹیوب ویل آب پاشی کے لئے خود الگاتا ہے اس کے لئے کون سا موقع موزوں ہو گا۔عمارتوں کے لئے پختہ نئیں تیار کرنے کے بھٹے لگانے ہوں گے ان کے لئے کوئی موقع ہوتا کیا ہے۔- آئنده ماه ساون میں پھلدار درخت آم و غیره اور نیز شیشم و یوکلپٹس و د هر یک و کیم کے درخت رقبہ زیر بحث میں کس کس موقع پر لگانے مناسب ہوں گے۔یہ بھی معلوم کریں۔آیا اس نواح میں کہیں درختوں کی نرسری ہے اگر نہ ہو تو احمد نگر کوئی مناسب نرسری ذخیره درختان کے لئے تجویز کیا جائے۔- موضع احمد نگر کا بہت سا رقبہ سڑک پخته ما بین چنیوٹ دلالیاں کے رہائیں جانب چنیوٹ سے لالیاں جاتے ہوئے بنجر پڑا ہے۔اگر وہ رقبہ مناسب قیمت پر ہم خریدد سیوں تو غالباً اس کو نہری بنایا جاسکتا ہے۔وہ رقبہ دیکھیں اور معلوم کریں کہ کس کی ملکیت ہے اور آیا اس کا خمیر کرنا مناسب ہوگا۔اپنے طور پر یہ حالات معلوم کریں یہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم اس کو خریدنا چاہتے ہیں۔۔آپ یہ بھی غور کریں کہ مکانات بنانے کے لئے کونسا قطعہ موزوں ہوگا۔یعنی آبادی دیہ کہاں ہوتی چاہتے تمارے کارہ نے اور کالج وسکول فضل عمر انسٹی ٹیوٹ لائبریری وغیرہ کے لئے کونسا موقعہ موزون ہوگا۔؟ قبرستان کہاں ہونا چاہیئے۔- احمد نگر یں کچھ رقبہ نہر سے آسائش ہو تا ہے۔آپ وہ راجباہم رکھیں جب سے اس رقبہ - کو نہری پانی ملتا ہے۔آپ نہر محکمہ میں رہ چکے ہیں۔پٹواری نہر د ضلعدار سے بھی ملیں۔اور اس امر پر غور کریں کہ اس موضع کے باقی رقبہ کو جو اس وقت نہری نہیں ہے نہری آبپاشی میں لانے کے لئے کیا تجویز ہوسکتی ہے ؟ کور رنمنٹ کو ضرورت ہے غلہ کی پیداوار بڑھا نے کی۔اور اس ضرورت کی حرف توجہ دلا کر اس رقبہ کی آبپاشی کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔اگر یہ بنجر رقبہ سرکارکیا ہے۔تو سردست ہم سرکار سے ماریشی کاشت پر لینے کی درخواست کر سکتے ہیں۔