تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 258
۲۴۸ تبلیغ کے لئے ایک اور راستہ نکل آیا۔میرے ایک عزیز لالیاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ربوہ میں چونکہ رہائش کا خاص انتظام نہیں تھا اس لئے وہ لالیاں ٹھہر گئے اور ڈاک بنگلہ ریزرو کر والیا۔انہوں نے مجھے بتایا کہ جب وہ سٹیشن پر رخصت ہونے لگے تو ایک پٹھان شور مچا رہا تھا۔وہ پٹھان قادیان نہیں آیا تھا لیکن ربوہ کا جلسہ اس نے دیکھا تھا چونکہ یہ لوگ اسلامی ممالک کے قریب رہتے ہیں اس لئے اسلامی باتوں کا ان کے دلوں پر اچھا اثر پڑتا ہے۔اس عزیزہ نے بتایا کہ وہ پٹھان شور مچارہا تھا کہ ایسا جلسہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ایسی تقریر ہم نے پہلے سنی ہے۔اس کے پاس کوئی مولوی طرز کا ایک آدمی کھڑا تھا۔اس نے کہا یہ لوگ تو کا فر ہیں ان کا جلسہ کیا اور ان کی تقریریں کیسی۔اس نے کہا وہ کا فرنہیں ہو سکتا۔وہ تو ستو بکرا روز کھلاتا ہے وہ کافر کیسے ہو سکتا ہے۔یہ اسلامی تہذیب کا اثر تھا جو اس پٹھان کی طبیعت پر ہوا پٹھان ایک مہمان نواز قوم ہے اس نے جب جلسہ پر مہمان نوازی کا انتظام دیکھا تو اس کی طبیعت پر بہت اچھا اثر ہوا۔اسی طرح پونچھ کے علاقہ کی ایک عورت میری ایک بیوی کے پاس آئی پہاڑی علاقہ کے لوگ عام طور پر مہمان نواز ہوتے ہیں لیکن وہ ایسے علاقہ کی تھی جو مہمان نواز نہیں تھا۔وہ عورت میری ایک بیوی کے پاس آئی۔ان سے کہا کہ ہمارے ہاں تو مہمان آئے تو چار پائی الٹ دیتے ہیں اور جہان کو کھانا نہیں کھلاتے۔آپچھے ساروں کو کھانا دیتے ہیں۔بہرحال نئی جگہ اور نیا علاقہ ہونے کی وجہ سے کئی بیٹے لوگو کی ہماری باتیں سننے کا موقعہ ملا ئیں لاہور والوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں اگر چہ یہ بات میری عقل میں نہیں آتی کہ لاہو اس دفعہ سیکنڈ رہا ہے۔لجنہ اماءاللہ کی طرف سے جو عورتوں کی تعداد مجھے دی گئی ہے اس کے مطابق ۹۷۵ عورتیں لاہور کی تھیں۔یہ بات میں نہیں سمجھ سکا کہ اتنی عورتیں کہاں سے آئیں۔دو اڑھائی سو تک تو بات سمجھ میں آجاتی ہے اتنی عورتیں تو قادیان کی مہاجر عورتیں ہوسکتی ہیں لیکن پھر بھی ساڑھے چھ سو کی تعداد باقی رہ جاتی ہے۔اور اگر ہ ، 4 عورتیں لاہور کی تھیں تو جلسہ میں مرد بھی شامل ہوئے تھے۔اگر ان کی حاضر کی بھی یہی نسبت تھی تو پھر لاہور کا ضلع حاضری کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر آجاتا ہے۔سرگودھا، لائلپور اور سیالکوٹ کا ضلع اپنی احمدی آبادی کے لحاظ سے بہت کم شامل ہوئے۔ان اضلاع سے آنے والے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہونی چاہیئے تھی۔آبادی کے لحاظ سے ان ضلعوں سے آنے والے بہت کم لوگ تھے متناع سرگودھا سے آنے والوں کی تعداد باقی دو اضلاع سے نسبت زیادہ تھی اور لائلپور اور سیالکوٹ کی تعداد بہت پیچھے تھی۔بہر حال اللہ تعالے نے ہمارے تعلیہ کو نہایت کامیابی سے گزارہ ہے " الفضل ظهور را گست و بیش صفحه ۴۰۲ A ×1979